کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 312
ترجمہ : ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اسکے ماں باپ یا تو اسے یہودی، یا عیسائی، یامجوسی بنادیتے ہیں.
نیز فرمایا :"مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَہُمْ أَبْنَائُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَ اضْرِبُوْہُمْ عَلَیْہَا وَہُمْ أَبْنَائُ عَشْرَ، وَفَرِّقُوْا فِی الْمَضَاجِعِ"(أبوداؤد : 495حسن )
ترجمہ:جب تمہاریبچے سات سال کے ہوجائیں تو نماز پڑھنے کی تاکید کرو، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر مارو اور انکے بستر جدا کردو۔
گھر کا ماحول اسلامی ہے، والدین پابند شریعت ہیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دینی ماحول میں پرداخت کریں گے۔ اگر معاملہ بر عکس ہے تو گھر کا غیر دینی اور فیشن زدہ ماحول اولاد کو راہ حق سے بھٹکانے کے لئے کافی ہے۔
2۔ گھر کے بعد بچے اپنا زیادہ وقت مدرسہ، سکول، کالج اور یونیورسٹی میں گذارتے ہیں یہاں پر آنے کے بعد بچوں کا مستقبل دواہم رہنماؤں کے رحم وکرم پر ہوتا ہے :
۱۔ استاد ومدرّس : ٹیچر اور استاد بچوں کی مقصدِ زندگی کا رُخ متعین کرتا ہے، اگر مدرس ذمّہ دار اور بچوں کی تربیت میں مخلص ہے تو بچوں کی تعلیمی زندگی پر اس کے بڑے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اگر بد قسمتی سے استاد غیر ذمّہ دار بلکہ بد اخلاق ہو، تدریس کو بس کھانے کمانے کا ایک پیشہ سمجھتا ہو، جیسا کہ آج کل کالج اور یونیورسٹیوں کا ماحول ہے کہ پروفیسر حضرات اپنے شاگردوں کے ساتھ مل بیٹھ کر شراب نوشی کرتے ہوئے پکڑے گئے، تو ایسا مدرس بچوں کے بگاڑ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
۲۔ تعلیم : کیونکہ تعلیم ہی بچوں کی معاشرتی زندگی کی رہنمائی کرتی ہے، اور تعلیم کے