کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 310
ان کے خلاف غلط پروپگنڈہ کرنے والا اور ان کی عزت نفس کو خاک میں ملانے والا ہو، تو بچے بچپن میں تو باپ سے ڈرے سہمے رہتے ہیں لیکن جوان ہونے کے ساتھ ہی وہ باپ کے باغی بن کر اس کی ناقدری پر اتر آتے ہیں، باپ کے لئے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ پیار ومحبت اور شفقت ومہربانی کا سلوک کرے اگر کبھی کچھ ڈانٹ ڈپٹ اور ہلکی سی مار کی ضرورت بھی پیش آجائے تو تھوڑی دیر بعد اس سے محبت کا سلوک کرے، تاکہ بچے کے قلب وذہن میں یہ بات نہ بیٹھ جائے کہ میرا باپ ہمیشہ ہی مجھے مارتا ہے، والد کے ضروری ہے کہ بچے اگر کبھی کچھ غلطی کرجائیں، یا شرارت کریں تو بجائے مارنے کے انہیں پیار ومحبت سے سمجھائے،اور ان کے عمل سے ہونے والے نقصان کی انہیں تفصیل بتائے، جب شرارتیں حد سے گذر جائیں تو نفسیاتی طور پر ان پر اثر ڈالے اورتھوڑی دیر کیلئے ایسا رُخ اپنائے کہ انہیں احساس ہو کہ ہمارا والد ہم سے ناراض ہے. اور انکی تربیت میں رحم دلی اور محبت کے ان تمام تقاضوں کو پورا کرے جنکا ہم نے گذشتہ اوراق میں بالتفصیل ذکر کیا ہے، اگر پیار ومحبت کے اسلامی خطوط پر انکی تربیت ہو تو ان سے ہم بجا یہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں گے۔
ایک مرتبہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہما اپنے بیٹے یزید سے ناراض ہوگئے، پھر احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے، بچوں سے والد کے سلوک کے متعلق ان کی رائے دریافت کی، جواب میں انہوں نے کہلا بھیجا :
"ھُمْ ثِمَارُ قُلُوْبِنَا، وَعِمَادُ ظُہُوْرِنَا، وَنَحْنُ لَہُمْ أَرْضٌ ذَلِیْلَۃٌ، وَسَمَائٌ ظَلِیْلَۃٌ فَإِنْ طَلَبُوْا فَأَعْطِہِمْ، وَإِنْ غَضِبُوْا فَأَرْضِہِمْ، فَإِنَّھُمْ