کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 308
تعالیٰ نے بیوی ہونے کے ناطے عورت پر جو فریضہ عائد کیا ہے وہ یہ کہ جب شوہر اسے اپنے بستر کی طرف بلائے تو وہ چلی آئے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر وہ ہمارے گھر کی حفاظت کرتی ہے بچوں کی پرورش کرتی ہے، ہمارے جانوروں کی خدمت کرتی ہے، ہمارے گھر کی صفائی کرتی ہے، ہمارے لئے کھانا پکاتی ہے،جب بیوی کے اتنے سارے احسانات ہم پر ہوں،اگر وہ کبھی گرجتی برستی ہے تو برسنے دو، اس سے فرق کیا پڑتا ہے ؟"( أخلاقنا الإجتماعی : 90) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بزرگی اور عظمت کے باوجود بیویوں کے ساتھ نہایت ہی خوشگوار طور پر زندگی بسر فرماتے،ہنسی مذاق، کھیل کود میں بیویوں کو شریک کرتے۔ أم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : " ایک مرتبہ میں سفر میں آپکے ہمراہ تھی، آپ نے قافلہ والوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، جب قافلہ آگے بڑھ گیا تو فرمایا : " چلو ہم اور تم دوڑ لگاتے ہیں" میں ہلکی پُھلکی تھی، دوڑ میں آپ کو پیچھے چھوڑ دیا، پھر چند سالوں بعد جب میرا وزن کچھ بڑھ گیا، تو دوران سفر آپ 1 نے کاروان کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، پھر مجھ سے فرمایا :"چلو دوڑ لگاتے ہیں " اب کی بار آپ 1 مجھ پر سبقت لے گئے اور فرمایا:" ہٰذِہِ بِتِلْکَ " یعنی"پچھلا حساب چکا دیا"(أبو داؤد۔ نسائی) بیویوں کی حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ شوہر ان سے ان کی بچیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : " آمِرُوا النِّسَائَ فِیْ بَنَاتِہِنَّ" (أحمد :4905۔ أبوداؤد:2097 ) ترجمہ : عورتوں سے انکی بچیوں کے متعلق ان کی مرضی دریافت کرو۔ یعنی بچیوں کی کسی کے ساتھ منگنی کرنے سے پہلے ان سے اجازت لو۔