کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 307
بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہوں"۔
ایک اور حدیث میں شوہر کو تاکید کی گئی ہے کہ بیوی سے جو کچھ میسر آئے لے لے، کیونکہ وہ کامل وجہ پر نہیں پیدا کی گئی ہے، بلکہ اس میں ٹیڑھا پن ہونا لازمی ہے اور آدمی اسی طبیعت پر اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جس پر وہ پیدا کی گئی ہے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :" إِسْتَوْصَوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا، فَإِنَّھُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَیْئٍ فِی الضِّلْعِ أَعْلَاہُ، فَإِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمَہُ کَسَرْتَہُ وَإِنْ تَرَکْتَہُ لَمْ یَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصَوْا بِالنِّسَآئِ خَیْرًا"( بخاری:5186مسلم 1468:) ترجمہ : "عورتوں سے بہتر سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور کسی طرح تمہارے لئے سیدھی نہ ہوگی اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ وہ ہے جو اس کا بلند حصہ ہے،اگر تم اسے بالکل سیدھا کرنا چاہوگے تو اسے توڑ دوگے اور اگر چھوڑ دو گے تو ٹیڑھی ہی رہے گی، لہٰذا عورتوں سے اچھا سلوک کرو"۔
عورتوں میں شوہر کو کچھ نہ کچھ کہتے رہنے کی فطری عادت رہتی ہے، اس سے تنگ آکر ایک مرتبہ عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی شکایت لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے، جاکر دیکھا تو ان کے گھر کا معاملہ بھی اپنے گھر سے کچھ الگ نہیں تھا، امیر المؤمنین کی بیوی بھی انہیں کچھ کڑوی کسیلی سنارہی تھیں، الٹے قدم واپس آئے، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں طلب کیا اور آکر واپس چلے جانے کی وجہ پوچھی، تو فرمایا : "جس اُفتاد کی شکایت لے کر آپ کی خدمت میں پہنچا تھا اسی مصیبت سے آپ بھی دوچار تھے تو واپس چلا گیا " عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :" ابن مسعود ! میں آپ کو قریش کا عقلمند آدمی سمجھ رہا تھا، آج پتہ چلا کہ تم ایسے نہیں ہو، دیکھو! اﷲ