کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 306
وَإِعْتِرَافًا بِحَقِّہِ، یَعْدِلُ ذٰلِک وَقَلِیْلٌ مِّنْکُنَّ مَن یَّفْعَلُہُ" (البزار رضی اللہ عنہ 209: ) ترجمہ : تم سے ملاقات کرنے والی عورتوں سے جاکر کہہ دینا کہ شوہر کی خدمت واطاعت کرنا اور اس کے حقوق کی رعایت اور اعتراف کرنا ( اجر میں ) مردوں کے برابر ہوگا، لیکن تم میں کم ایسی عورتیں ہونگی۔ ساتھ ہی مرد کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ فرمان نبوی ہے : "إِتَّقُوا اللّٰہَ فِی النِّسَآئِ فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوْہُنَّ بِأَمَانَۃِ اللّٰہِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللّٰہِ وَلَہُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ" (أبوداؤد:1907) عورتوں کے متعلق اﷲ تعالیٰ سے ڈرو، اسلئے کہ تم نے انہیں اﷲ کی امانت سمجھتے ہوئے اپنی زوجیت میں لیاہے اور انکی عصمتوں کو اﷲ کے کلمہ سے اپنے لئے حلال کیا ہے، تم پر انکا یہ حق ہے کہ تم انہیں بھلے طورپر خوراک اور لباس مہیا کرو بیوی کی کسی ناپسندیدہ عادت پر شوہر کو یہ کہتے ہوئے صبر کرنے کی تلقین کی گئی کہ وہ اپنی بیوی کی خوبیوں اور خامیوں کا موازنہ کرے، اسکی طرف صرف ناراضگی اور کراہت کی نظر سے ہی نہ دیکھے : " لَا یَفْرُکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَۃً، إِنْ کَرِہَ مِنْہَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْہَا آخَرْ " ( مسلم:1469 ) ترجمہ : "کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت ( اپنی بیوی ) سے بغض نہ رکھے، اس لئے کہ اگراسے اس کی کوئی عادت نا پسند ہے تو کوئی دوسری پسند بھی آئے گی "۔ ان کو بہتریں مرد قرار دیا گیا جو اپنی بیویوں کے لئے سب سے اچھے ہوں : " خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہِ، وَأَنَا خَیْرٌ لِأَہْلِیْ " ( ترمذی:3895إ بن ماجہ 1977: ) یعنی" تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لئے