کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 302
مشتمل علماء کی ایک جماعت اور بہت سے دوسرے علماء کا مختار قول یہی ہے، خود عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے یہی روایت ثابت ہے، صاحب السیرۃ اما م محمد بن اسحاق اسی کے قائل ہیں، نیز شیخ الإسلام إمام ابن تیمیہ اور انکے شاگرد رشید علامہ ابن قیّم رحمۃ اﷲ علیہما نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے"۔[1]
دوسری جگہ فرماتے ہیں :" عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہمانے ( ایک صحیح قول کے مطابق ) اسی کو اختیار کیا ہے، اور تین طلاق کو ایک طلاق ماننے والوں میں علی، عبد الرحمن بن عوف، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ محمد بن اسحاق ( سیرت کے مصنف ) اور تابعین کی ایک جماعت بھی یہی کہتی ہے، اور متقدمین ومتأخرین علماء کی ایک جماعت اسی کی قائل ہے، شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد رشید علامہ ابن قیّم رحمہمااﷲ کا بھی یہی مسلک ہے۔ اور میں بھی یہی فتوی دیتا ہوں، اس لئے کہ اس میں تمام دلائل پر عمل ہوجاتا ہے اور اس میں مسلمانوں کے ساتھ رحمت وشفقت اور نرمی کا پہلو بھی ہے "۔ ( حوالہ مذکور ص 97 2)
یہی وہ مسلک ہے جو کتاب وسنّت سے زیادہ قریب ہے اور جس میں عام مسلمانوں کے لئے سکون وراحت ہے اور اسی مسلک پر عمل کرتے ہوئے وہ ہزارہا خاندان جو مرد کی غیر دانش مندی کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہوگئے پھر سے آباد ہوسکتے ہیں۔
اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی اور اس نے اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد سے
شادی کرلی، لیکن بدقسمتی سے اس سے بھی نباہ نہ ہوسکا، اگر وہ پھر سے پہلے شوہر سے شادی کرنا چاہے تو کرسکتی ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿ فَاِنْ طَلَّقَہَا
[1] فتاویٰ علامہ عبد العزیز بن باز : مرتب : ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ۔ص309۔310