کتاب: اولاد کی اسلامی تربیت - صفحہ 257
علم کی اہمیت علم کی فضیلت میں بے شمار آیات واحادیث آئی ہوئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔ فرمانِ نبوی ہے :'' طَلْبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ '' ( إبن ماجہ 224: صحیح ) علم صرف سرٹیفکٹ کے حصول کا نام نہیں بلکہ علم وہ ہے جو انسان کے دل میں اﷲ تعالیٰ کی خشیّت اور تقویٰ پیدا کرے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے :﴿ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَآء ُ﴾(فاطر :28) طلبِ علم کا سلسلہ ماں کی گود سے لے کر گور ( قبر) تک جاری رہتا ہے اور علم مطالعہ اور متابعت سے بڑھتا اور زندہ رہتا ہے،مطالعہ اور کتب بینی اور علم اور اہلِ علم کی صحبت چھوڑ دینے سے ختم ہوجاتا ہے اوراس کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔ انسان کو ہمیشہ زیادتیٔ علم کے لئے کوشاں رہنا چاہئے، اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھلائی : ﴿ وَ قُلْ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴾ ( زمر :9) ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہیں : اے میرے رب ! میرے علم میں اضافہ کر۔ اسلاف کرام اپنی علمی عظمت اور جلالتِ شان کے باوجود زندگی کی آخری سانس تک اس مقدس شغل کو جاری رکھا۔ امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں : " لَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ یَکُوْنُ عِنْدَہُ الْعِلْمُ أَنْ یَتْرُکَ التَّعَلُّمَ " ترجمہ : جس شخص کے پاس علم ہے اسے علم سیکھنا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ امام ابو عمرو بن العلاء رحمہ اﷲ سے پوچھا گیا کہ :" انسان کو کب تک علم حاصل کرنا چاہئے؟" اس عالی ظرف نے جواب دیا :" مَا دَامَتِ الْحَیَاۃُ تُحْسِنُ بِہٖ " جب تک زندگی اس پر مہربان رہے۔