کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 516
ہیں۔ جامعہ أم القری، سعودی عرب کے ایک طالب علم کے ذمے بھی کچھ کتابیں لگائی تھیں لیکن ان سے بھی بعد میں رابطہ منقطع ہو گیا۔ اسی طرح پشاور کے رہائشی ایک ایسے نوجوان سے بھی ملاقات ہوئی جو سعودی عرب میں شاہ خالد لائبریری کے اسسٹنٹ تھے۔ فقہ اکیڈمی انڈیا نے ’اجتماعی اجتہاد‘ کے موضوع پر علی میاں کی ایک مختصر کتاب شائع کی ہے، اس کتاب کے حصول کے لیے بھی اکیڈمی کی ویب سائیٹ پر فراہم کردہ ای میل اورپوسٹل ایڈریس پر کئی ایک پیغامات بھجوائے لیکن کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ مشرق کی نسبت مغرب(west) میں راقم نے یہ بات شدت سے محسوس کی ہے کہ وہاں ای میل یا پوسٹل ایڈریس پر رابطہ کرنے سے جواب ضرور موصول ہوتا ہے۔ انہوں نے بھی کچھ کتابیں بھجوانے کا کہا لیکن بعد میں ان سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک کوششیں کی گئیں جن کا یہاں احصاء کرنا مقصود نہیں ہے۔
ہماری اس سار ی بات کا خلاصہ یہی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری میں اجتہاد جیسے اہم موضوع سے متعلق عالم اسلام میں کہیں بھی چھپنے والی کتب موجود ہونی چاہئیں اور ان کے حصول کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مختلف عالمی لائبریریوں مثلاً شاہ فہد لا ئبریری کی آن لائن فہارس کتب(Online Cataloging) سے’ کتب اجتہاد‘ کی ایک فہرست مرتب کر لی جائے اور پھر متعلقہ لائبریریوں سے ان کتب کی فوٹو کاپی منگوا لی جائے۔ یہ طریقہ کار اس سے زیادہ بہتر ہے کہ آپ ایک کتاب ’مراکش‘ سے منگوا رہے ہوں اور دوسری ’انڈونیشیا‘سے تیسری’ سعودی عرب‘ سے اور چوتھی ’بیروت‘ سے۔ فی زمانہ ایک موضوع سے متعلق کتب کو جمع کرنا بھی ایک فن ہے اور اس پر بلاشہ لاکھوں نہیں کروڑوں روپے کے وسائل درکار ہیں۔ سرکاری سر پرستی کی وجہ سیعالم عرب کی اسلامی لائبریریو ں کی کارکردگی پاکستانی لائبریریوں کی نسبت بیسیوں گنا زیادہ ہے لہذا ان حضرات کی کوششوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ عالم عرب کی تقریباً تمام بڑی لائبریریوں کی سرکاری ویب سائیٹس موجود ہیں جن سے ان کے پتے اور فو ن نمبرز بھی رابطہ کے لیے، حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ہم اپنے اس مقالے کے ساتھ ان جدید کتب اجتہاد کی ایک فہرست بھی شعبے میں جمع کروا رہے ہیں کہ جن کا علوم اسلامیہ کی ایک تحقیقی لائبریری میں ہونا أز بس ضروری ہے۔ وللہ الحمد والمنۃ