کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 515
استعمال نہ کر سکیں۔ سعودی عرب کی مجلس’ھیئۃ کبار العلماء‘ایک سرکاری مجلس ہے اور اسی طرح ’اسلا می نظریاتی کونسل‘ بھی ایک وقت میں ملک کے جید علماء پر مشتمل تھی۔ ایسی مجالس شوری سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ہر ملک میں قائم کی جائیں اور پھر’اسلامی کانفرنس کی تنظیم‘ کی طرح کا کوئی ایسا ادارہ ہو جو ان ملکی مجالس شوری کا بھی جامع ہویعنی ایک ’عالمی فقہی مجلس شوری ‘قائم ہو جو ساری دنیا کے نمائندہ مجتہدعلماء و فقہاء پر مشتمل ہو۔ بیسیوں ممالک کے علماء پر مشتمل بعض ایسی عالمی فقہی مجالس قائم بھی ہیں لیکن ان میںعموماً ایک ملک سے صرف ایک ہی عالم دین کو منتخب کیا جاتا ہے۔ ایک تو ان عالمی مجالس میں اس نمائندگی میں اضافے کی ضرورت ہے دوسرا ان مجالس کے زیر سرپرستی ایک ایسے سیکرٹریٹ کا قیام امت مسلمہ کا ہدف ہونا چاہیے جس میں خط و کتابت اور جدید وسائل و ذرائع کے ذریعے متفرق ممالک کے علماء کی آراء ممکن حد تک اکٹھی کی جائیں اور ان کی تہذیب و تنقیح کی روشنی میں متفقہ نتائج کا اعلان کیا جائے۔ ساتویں باب میں ہم نے اجتماعی اجتہاد کی پانچ مجالس علمیہ اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا‘اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان‘ مجمع البحوث الإسلامیۃقاہرہہیئۃ کبار العلمائ سعودیہ اور یورپی کونسل برائے افتاء و تحقیق کا مفصل تعارف پیش کیا ہے۔ اس تعارف میں ان مجمعات کی تخلیق کے تاریخی پس منظر، قواعد رکنیت، اجلاسات کے انعقاد کے طریقہ کار‘ فتوی جاری کرنے کے مناہج، علمی و تحقیقی کام، فتاوی کا تعارف اور ان پر مختصر تبصرہ پیش کیا گیاہے۔ اسلامی فقہ اکیڈمی کے علاوہ بقیہ چار مجمعات یعنی اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان،مجمع البحوث الإسلامیۃقاہرہ، ہیئۃ کبار العلمائ سعودیہ اور یورپی کونسل برائے افتاء و تحقیق نے فتوی جاری کرنے کے لیے کسی متعین مذہب کی پابندی کو اپنے لیے لازم قرار نہیں دیا ہے۔ مؤخر الذکر تین مجمعات میں جمیع مذاہب اسلامیہ سے أصول و فروع میںمساوی طور پر استفادہ کرتے ہوئے کسی ایک قول کو راجح قرار دیا جاتا ہے جبکہ اسلامی فقہ اکیڈمی میں تلفیق بین المذاہب کی حد تک تو آراء کا اظہار نظر آتا ہے لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر جمیع مذہب اسلامیہ سے مساوی استفادے کی صورت حال ابھی نظر نہیں آتی۔ ہمارے خیال میں اکیڈمی کو اب اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے ہماری رائے یہ ہے کہ ریٹائرڈ ججوں، متجددین اور سیاسی مولویوں پر مشتمل معاصراسلامی نظریاتی کونسل کا علمی معیار، تحقیقی منہج اور اجتہادی اہلیت جمیع اہل علم کے ہاں مشتبہ و مشکوک ہے لہذا اس میں مختلف مکاتب فکرکے جید علماء کو نمائندگی دینی چاہیے۔ اس موضوع میں تحقیق کے دوران ہمیں موضوع سے متعلق کتابوں کے حصول میں بہت ہی مشکل درپیش آئی ہے۔ جو کچھ کتابیں ملی بھی ہیں تو وہ انٹر نیٹ پر ایک سال کی تلاش و بسیار کے بعد۔ پچھلے دو تین دہائیوں میںاجتہاد پر تقریباً۴۰ اور اجتماعی اجتہاد کے موضوع پر تقریباً آٹھ دس نمایاںکتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی پاکستانی کتب خانوں یا لائبریریوں میں موجود نہیں ہے۔ راقم الحروف نے اسلامی یونیورسٹی کے طلباء میں سے اپنے دو عزیز ساتھیوں کے ذریعے’ ادارہ تحقیقات اسلامیہ‘ کی لائبریری تک کی چھان بین کروائی لیکن اس موضوع سے متعلق کوئی کتاب وہاں بھی نہ مل سکی۔ پشاور کے بارے معلوم ہوا کہ وہاں بیروت میں شائع ہونے والی کتب کی خرید و فروخت کے دو بڑے ادارے موجود ہیں لیکن ان اداروں میں بھی بنیادی مصادر کی کتب تومل جاتی ہیں لیکن کسی مخصوص موضوع سے متعلق کتب کی تحصیل مشکل ہی سے ہوتی ہے۔ پشاور ہی کے ایک مکتبہ کے رفیق نے بیروت چکر لگانے پر کچھ کتابوں کی فراہمی کی یقین دہانی تو کروائی لیکن ہم چھ ماہ تک ان کے بیروت جانے کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ اپنے ایک عزیز دوست أحسن سلفی جو’ ریاض‘ میں مقیم ہیں،کی ڈیوٹی لگائی کہ فلاں فلاں کتابیں جمع کریں لیکن اجتہاد کے موضوع سے متعلق وہ کتابیں انہیں ریاض کے مکتبات میں بھی باآسانی نہ ملیں۔ اپنے ایک استاذ محترم ’ریاض ‘میں کتابوں کی عالمی نمائش میں موجود تھے‘ انہوں نے بھی متعلقہ کتب وہاں تلاش کیں لیکن انہیں بھی نہ ملیں جس میں غالباً بڑی وجہ یہ تھی کہ بڑھاپے کی وجہ سے وہ زیادہ تلاش و بسیار نہ کر سکے۔ علاوہ ازیں اپنے ایک دوست آفتاب مشہدی کے ذریعے سعودیہ میں رہائش پذیر ایک ایسے پاکستانی نوجوان سے رابطہ ہوا جو وہاں کی لائبریریوں کو کتابوں کی ترسیل کرتے تھے۔ انہوں نے کئی ماہ کی تلاش و جستجو کے بعد چار کتابیں بھیجیں جس کے بارے ہم ان کے بے حد ممنون و احسان مند