کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 514
ایک صورت تو یہ ہے کہ متفرق معروف مکاتب فکر کے علماء پر مشتمل متفرق عدالتیں بنا دی جائیں جیسا کہ پہلے ہی تقریباً تمام ممالک میں مسائل کی بنیاد پر عدالتوں کی تقسیم کار موجود ہے مثلاً فوجداری عدالت‘ دیوانی عدالت‘ تجارتی عدالت اور شرعی عدالت وغیرہ۔ اب کرنے کا کام صرف یہ ہوگا کہ اس تقسیم میں شیعہ‘ حنفی اور اہل حدیث عدالتوں کا اضافہ ہو جائیگا۔ ہر عدالت میں متعلقہ مسلک کے علماء بطور جج مقرر ہوں اور اپنے مکاتب فکر کے عوام الناس کے ان مسائل کا حل پیش کریں جو اجماع‘ انتظام اور اباحت کے دائروں میں داخل نہیں ہیں۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے ایسی شرعی عدالتیں بنائی جائیںجو مجتہدمنتسب یا مجتہد فی المذہب یا أصحاب ترجیح میں شمار ہونے والے علماء پر مشتمل ہوں۔ اگر کوئی مسئلہ زیادہ گھمبیر اور پیچیدہ نوعیت کاہو تو اس کے حل کے لیے ایسی عدالتوں کی طرف رجوع لازم قرار دیا جائے جو مجتہد قاضیوں کی ایک جماعت پرمشتمل ہوں جیسا کہ اس کی ایک مثال’ وفاقی شرعی عدالت‘ بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس میں مجتہد علماء کو نمائندگی دی جائے۔ سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک میںاختلافی مسائل میں قانون سازی نہیں کی گئی ہے بلکہ قرآن و سنت کو بطور قانون نافذ مانا گیا ہے اور علماء و فقہاء بطورجج براہ راست کتاب و سنت اور فقہ اسلامی سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں۔
چوتھے باب میں ہم نے ماضی میں ’اجتماعی اجتہاد‘ کی کاوشوں کا ایک تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اس بحث کا خلاصہ کلام یہی ہے کہ دور نبوی اور خلفائے راشدین کے زمانے میں اجتماعی اجتہاد کا منہج بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ تابعین اور أئمہ أربعہ کے دور میں فقہاء کے بلاد اسلامیہ میں منتشر ہونے اور فاصلوں کی دوری کی وجہ سے اجتماعی اجتہاد کا حصول مشکل ہو گیا تھالیکن پھر بھی ایک ہی مذہب کے علماء کے مابین’ مشاورتی اجتہاد‘ کی مثالیں ہمیں اس دور میں بھی کثرت سے ملتی ہیں۔ عصر حاضر میں سلف صالحین اور خیر القرون کی اس سنت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس باب میں پیش کردہ مستند أحادیث و آثار سے اجتماعی و مشاورتی اجتہاد کے جواز کے کثیر دلائل کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔ ہماری رائے میں اجتماعی اجتہاد کے دلائل کے طور پر کچھ ضعیف قولی روایات کی بجائے ان صحیح أخبار کو بنیاد بنایا جائے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی عملی سنت کو واضح کرتی ہیں۔
ماضی میں اجتماعی اجتہاد کی کاوشوں کے تناظر میں فتاوی عالمگیری‘ مجلہ الأحکام العدلیہ‘ مصری علماء کے تیار کردہ اسلامی آئین‘موسوعۃ فقہیہ اور فتاوی اللجنۃ الدائمۃکا تعارف ہم نے پانچویں باب میں پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں انفردای اجتہاد و تحقیق کے بالمقابل اجتماعی کوششوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ فتاوی عالمگیری ‘ مجلہ الأحکام العدلیہ اور موسوعۃ فقہیہ تو درحقیقت تالیفات کے دائرے میںشامل ہوتے ہیں۔ انہیں ہم اجتماعی اجتہاد تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ أئمہ سلف کے اجتہادات کو جمع کرنے کی اجتماعی کوشیں ضرور ہیں اور تالیف کے میدان میں بھی ایسی اجتماعی کاوشیں فتاوی عالمگیری سے پہلے کے ادوار میں ہمیں مفقود نظر آتی ہیں۔ فتاوی عالمگیری اور مجلہ الأحکام العدلیہ فقہ حنفی کے متنوع فتاوی اور موسوعۃ فقہیہ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، ظاہری، زیدی، اثنا عشری اور اباضی فقہوں کی مختلف آراء کی جمع و تدوین، تہذیب و تنقیح اور ترجیح و تحقیق پر مشتمل ہے۔ اس بارے کرنے کا أصل کام یہ ہے کہ ایک ایسا جامع فقہی انسائیکلوپیڈیا تیار کیا جائے کہ جس میں ان آٹھ فقہوں کے علاوہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار کے فقہاء کی آراء بھی اختصار کے ساتھ جمع کر دی جائیں۔ مصری علماء کا تیار کردہ اسلامی ریاست کا مجوزہ آئین اور فتاوی،فتاوی اللجنۃ الدائمۃالبتہ اجتماعی اجتہاد کے نمایاں مظاہر ہیں جو مصر و سعودی عرب کے علاوہ دوسرے مسلمان ممالک کے معاصر علماء کے لیے بھی اس لحاظ سے ایک نمونہ ہیں کہ انہیں بھی آئین، قانون سازی، فتاوی اور فقہی آراء کے اظہار میں اسی منہج کو اختیار کرنا چاہیے۔
چھٹا باب اجتماعی اجتہاد کے چار مختلف مناہج و أسالیب کا بیان ہے۔ اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ صرف اسی صورت ممکن ہے جبکہ پارلیمنٹ کو’ شوری‘ کے معنی میں لیا جائے اور وہ انتخاب کے بجائے تعیین کے طریقے پر علمی بنیادوں پر قائم ہو اور ملک کے مجتہد علماء پر مشتمل ہو۔ موجود ہ معروف مغربی معنی میں پارلیمنٹ کے ذریعے اجتہاد درحقیقت فتنہ و فساد اور الحاد ہے جس کاہر صورت انکار کرنا چاہیے۔ مسلمان مجتہد علماء پر مشتمل’ مجلس شوری ‘یا ’مجلس أہل حل و عقد‘ اجتماعی اجتہاد کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم ہو سکتی ہے۔ ہماری رائے میں ایسی مجلس سرکاری سطح پر بھی قائم ہو سکتی ہے اور غیر سرکاری بھی لیکن اس کے قواعد و ضوابط ایسے ہوں کہ سیاسی پارٹیاں اور حکومتیں اسے اپنے ذاتی مفاد کے لیے