کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 513
نتائج اور سفارشات عصر حاضرمیں ’اجتہاد‘ کے بارے ایک بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ متجددین کے طبقے کے ہاں عمل اجتہاد سے مراد عقل و فطرت کی بنیاد پر شریعت میں تبدیلی یااس پر اضافہ ہے جبکہ اجتہاد کاسلف صالحین سے مروی صحیح تصور یہ ہے کہ اجتہاد قرآن و سنت کی وسعتوںاور گہرائیوں میں حکم شرعی کی تلاش اور أمر واقعہ پر اس کی تطبیق کا نام ہے۔ متجددین کا یہ طبقہ اپنے اس نظریہ اجتہاد کی بنا پر قطعی الدلالۃ نصوص کو بھی محل اجتہاد‘ شمار کرتا ہے اور منصوص مسائل میں شریعت کی خاموشی کا دعوی کرتے ہوئے اپنی عقل و فطرت سے شریعت کی تکمیل کاخواہاں ہے۔ یہ پہلے باب کا خلاصہ ہے۔ پہلے باب میں اپنی پیش کردہ تحقیق کے تناظر میں ہم یہ تجویز پیش کرنا چاہیں گے کہ سلف صالحین کے مذکورہ بالا تصور اجتہاد کو عام کیا جائے۔ اہل علم اور اہل قلم حضرات اپنی تحریروں‘ تحقیقی رسائل و جرائد میں شائع شدہ مضامین اور اخبارات کے کالم وغیرہ میں اس نکتے کو شدو مد سے نکھاریں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہم اہل سنت و الجماعت اور سلف صالحین کے منہج پر گامزن علماء کے طبقے سے یہ گزارش بھی کریں گے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرح ’اجتہاد‘ کے نام سے ایک علمی اور تحقیقی مجلے کا اجراء کریں تاکہ’ اجتہاد ‘کے نام پر بنیادی و أساسی دینی تصورات کو بگاڑنے والے نام نہاد اسکالرز کے ساتھ غزوہ فکری کا فریضہ سر انجام دیا جا سکے۔ دوسرے باب میں ’اجتماعی اجتہاد‘ کی تعریف کے ذیل میں ہم نے ایک ایسی ممکنہ جامع تعریف پیش کی ہے جو اجتماعی اجتہاد کے معاصر عمل کو محیط ہو یعنی’’بذل جمع من الفقھاء وسعھم مجتمعین لتحصیل أو تطبیق حکم شرعی‘‘۔ اس بارے کرنے کا مزید کام یہ ہے کہ اس تعریف پر معاصر علماء و مجمعات کی آراء جمع کی جائیں اور ان کی روشنی میں اجتماعی اجتہا دکی ایک متفقہ لفظی تعریف جاری کی جائے تاکہ تصورات کے ساتھ ساتھ الفاظ و بیان میں بھی اتفاق و ہم آہنگی کا عنصر غالب ہو۔ اسی باب کے ذیل میں ہم نے اجتماعی اجتہاد کی ضرورت و اہمیت پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ تہذیب و تمدن کا ارتقاء‘ عصر ی مسائل کی کثرت‘علمی و فکری وحدت‘ مذہبی و گروہی تعصب میں کمی‘فقہ الواقع کی پیچیدگی‘اجتماعی اسلامی فقہ کا حصول‘ مجتہد مطلق کے حصول میں إبعاد‘سلف صالحین کی اتباع‘ قانون سازی میں معاونت‘اجماع کا حصول‘ اجتہاد انتفائی اورانفرادی اجتہاد کے منفی نتائج کا سد باب‘ اجتماعی اجتہا دکے بنیادی و اہم محرکات میں سے چند ایک ہیں۔ عصر حاضر میں اجتہاد کا دروازہ بند کرنے کی بجائے قدیم مسائل میں مروی مختلف فقہی آراء میں سے کسی ایک رائے کے اختیار او ر جدید مسائل میںکسی نئی رائے کے اظہار کے لیے اجتماعی اجتہاد کے منہج کو اختیار کیا جائے تاکہ صحت رائے کے امکانات میں اضافہ ہو اور اجتماعی اسلامی فقہ کا حصول بھی ممکن ہو۔ لاہور کے بریلوی ‘ دیوبندی اور اہل حدیث علماء نے باہم مل کر ’ ملی مجلس شرعی‘ کے نام سے ایک تحقیقی مجلس قائم کر رکھی ہے جس میں جدید مسائل میں اپنی آراء کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہماری رائے میں ایسی مجالس ملکی سطح پربھی قائم ہونی چاہئیں۔ اگرچہ ملکی سطح پرعلماء وقتاً فوقتاً مختلف مسائل میں سیمینارز اور کانفرنسوں کے ذریعے اجتماعی آراء کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن یہ عموماً ایک ہی مذہب کے علماء ہر مشتمل ہوتی ہیں۔ ضرورت اس أمر کی ہے کہ ان سیمینارز اور کانفرنسوں کے بعد اگلا قدم ایک ایسی مجمع کے قیام کی طرف اٹھایا جائے جو ملک کے جمیع مکاتب فکر کے نمائندہ علماء پرمشتمل ہو۔ ’اجتماعی اجتہاد ‘کے تناظر میں ایک اہم مسئلہ اس کی بنیاد پر قانون سازی کا بھی ہے۔ اس بارے ہم اس مقالے کے تیسرے باب میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ قرآن وسنت اور جمہور سلف صالحین کی فقہی آراء کی روشنی میں اختلافی و اجتہادی مسائل میں قانون سازی شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس کا حل ہم نے یہ پیش کیا ہے کہ مباح‘ انتظامی اور اجماعی مسائل میں قانون سازی کر لی جائے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے اور جہاں تک اختلافی و اجتہادی مسائل کا معاملہ ہے‘ چاہے وہ انفراد ی قانون (personal law)سے متعلق ہوں یا اجتماعی (public law)‘ان کے حل کے دو طریقے ممکن ہو سکتے ہیں: