کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 504
أیدیھم' ولہ معرفۃ باللغۃ العربیۃ.٢۔ أن یکون معروفاً بحسن السیرۃ والالتزام بأحکام الإسلام وآدابہ.٣۔ أن یکون مقیماً علی الساحۃ الأوروبیۃ.٤۔ أن یکون جامعاً بین فقہ الشرع ومعرفۃ الواقع.٥۔ أن توافق علیہ الأکثریۃ المطلقۃ للأعضائ.''[1]
’’١۔ علوم اسلامیہ میں مہارت ہو'چاہے یہ مہارت کسی دینی یونیورسٹی میں تعلیم کے ذریعے حاصل ہوئی ہو یا علماء کی مجالس کے التزام اور کسی دینی مدرسے سے فراغت کے بعد ہو۔ ٢۔ رکن ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ وہ شخص اچھے اخلاق و حسن سیرت کا مالک ہو اور شریعت اسلامیہ اور اس کے آداب کا پابند ہو۔ ٣۔ وہ یورپی معاشرے میں مقیم ہو۔ ٤۔ وہ شرعی احکام کے ساتھ ساتھ فقہ الواقع کی بھی معرفت رکھتا ہو۔ ٥۔ مجلس کے ارکان کی سادہ اکثریت اس کو رکن بنانے کے حق میں ہو۔ ‘‘
مجلس کے ارکان کی اکثریت کے کہنے پر کچھ ایسے علماء کو بھی مجلس کا رکن بنایا جا سکتا ہے جو یورپی معاشرے میں مقیم میں نہ ہوں لیکن ان ارکان کی تعداد مجلس کے اراکین کی کل تعداد کا زیادہ سے زیادہ ایک چوتھائی ہو سکتی ہے ' اس سے زیادہ نہیں۔ مجلس کی رکنیت میں اس بات کا خیال رکھاجاتاہے کہ مختلف یورپی ممالک کی نمائندگی مجلس میں ہو۔ اسی طرح مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی کو بھی مجلس کی رکنیت میں ملحوظ رکھاجاتا ہے۔ مجلس کی رکنیت کے لیے تین معروف اہل علم کے تزکیوں (Chracter Certificate)پر بھی اعتماد کیا جاتا ہے۔ کسی رکن مجلس کی رکنیت ختم ہونے کی دو وجوہات ہیں ' یا تو اس رکن کی وفات ہو جائے یا پھر مجلس کے دوتہائی اراکین مجلس کے کسی باضابطہ اجلا س میں کسی قرار داد کے ذریعہ درج ذیل وجوہات میں سے کسی وجہ سے کسی رکن کی رکنیت ختم کر دیں :
1۔ جب کسی رکن میں مذکورہ بالا شرائط رکنیت میں سے کوئی شرط مفقود ہو جائے۔
2۔ مجلس کے تین اجلاسات سے مسلسل بغیر کسی عذر کے غیر حاضر رہنا۔
3۔ جب کوئی رکن بیماری یا بعض دوسرے حالات کی وجہ سے اپنے فرائض رکنیت ادا کرنے سے قاصر ہو۔
4۔ کوئی رکن خود سے مستعفی ہو جائے۔
مجلس کو اس بات کابھی اختیار ہے کہ بعض مصالح کے پیش نظر وہ مختلف یورپین ممالک سے مبصرین کو ان کے خرچے پر مدعو کرے۔ ایسے افراد مجلس کے اجلاس میں شریک ہوں گے لیکن ان کو رائے دینے کا حق حاصل نہ ہو گا۔ اسی طرح مجلس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنے اجتماعات میں مستشارین' ماہرین فن اور مترجمین کو شرکت کی دعوت دیں تاکہ ان کی معلومات سے مجلس کے تحقیقی عمل کو فائدہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر مجلس کسی طبی مسئلے میں اپنے فتوی کا اظہار کرنا چاہتی ہے تو وہ بہترین ڈاکٹروں کو اپنے اجلاس میں مدعو کرے گی تاکہ نفس مسئلہ کے بارے زیادہ سے زیادہ اور مستند معلومات اہل فن سے حاصل کر سکے۔ کیونکہ علماء کی جماعت کوجس قدر فقہ الواقع کا صحیح علم ہو گا' اسی قدر ان کے لیے متعلقہ مسئلے میں اپنی رائے کا اظہار آسان ہو گا۔ مجلس نے اپنے دستور میں یہ بھی طے کیا ہوا ہے کہ ان ماہرین فن کو شرعی مسئلے یا فتوی میں اپنی رائے دینے کا حق حاصل نہیں ہو گا کیونکہ وہ ان کا میدان نہیں ہے۔ ان ماہرین سے صرف نفس مسئلہ کے بارے میں رائے طلب کی جائے گی اور اس کی وضاحت کے بعد جب اس کے جواز یا عدم جواز کے بارے میں کسی شرعی رائے کے اظہار کا موقع آئے گا تو یہ اختیار صرف مجلس کے اراکین کے لیے مختص ہو گا۔
صدر مجلس اور نائب صدر
مجلس کے دستور میں یہ طے کیا گیا ہے کہ اس کا ایک صدر اور نائب صدر ہو گا۔ صدر ' مجلس کی تمام سرگرمیوں کا انچارچ اور نگران ہوگا۔ صدر کی عدم موجودگی کی صورت میں نائب صدر اس کا قائم مقام ہوتا ہے اور مجلس کی تمام ذمہ داریوں کی دیکھ بھال کرتاہے۔ مجلس کے بنیادی دستور میں صدر مجلس کے انتخاب کے طریقہ کار اور مدت عہدہ کے بارے میں درج ذیل الفاظ میں رہنمائی موجود ہے:
[1] The European Council For Fatwa and Research, Al-tareef bil Majlis, Retrieved September 04, 2009, from
http://www.e-cfr.org/ar/index.php?cat_id=005