کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 498
٭ گندے پانی سے پینے کا صاف پانی حاصل کرنے اور صفائی کے بعد اس سے وضو و طہارت کے احکام
٭ شادی شدہ زانی پر رجم کی حد جاری کرنے کا حکم
٭ منشیات کی ترویج او رسمگلنگ کے بارے میں شرعی حکم
٭ مردیا عورت کا اپنی جنس کو تبدیل کرنے کا حکم
٭ ملازمین کی یونین بنانے کا حکم
٭ ناقابل تقسیم اراضی میں شفعہ کا حکم
٭ مستحق مریضوں کے لیے دماغی طور پر وفات پا جانے والوں کے اعضاء کی منتقلی کا شرعی حکم
٭ ان غیر ملکی مزدوروں کے بارے میں جنہیں باہر سے بلا کر' بلانے والا(جسے سعودی عرف میں کفیل کہتے ہیں )کسی اور کے پاس کام کرواتا ہے اور مزدور کی آمدنی سے حصہ لیتا ہے۔
٭ امن عامہ میں خلل ڈالنے یاسرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے بارے میں شرعی سزاؤں کا تعین[1]
اس کے علاوہ بھی کئی ایک موضوعات پرہیئۃ نے اپنی علمی آراء کا اظہار کیاہے۔ ہیئۃ کی اکثر و بیشتر آراء 'أبحاث ہیئۃ کبار العلمائ'کے نام سے سات جلدوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ جبکہ'مجلۃ البحوث الإسلامیۃ'میں ہیئۃ کی پاس کردہ تمام قراردادوں کو شائع کیا جاتا ہے۔ اس مجلے کے تقریباً٨٠ شمارے شائع ہوچکے ہیں۔
ھیئۃ کے بارے شاہی فرمان میں اگرچہ یہ بات موجود ہیں کہ شرائط پر پورے اترنے والے غیر سعودی سلفی علماء کو بھی اس کی رکنیت فراہم کی جا سکتی ہے لیکن عملاًایسا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے خیال میں سعودی عرب کے ماحول میں سلفی منہج کے مطابق فتوی جاری کرنے کے لیے 'اللجنۃ الدائمۃ'کفایت کرتی ہے لہذا سعودی عرب میں ھیئۃ کبار العلماء کو ایک عالمی ادارہ ہونا چاہیے جو عالم اسلام کے کبار علماء کا نمائندہ ادارہ ہو نہ کہ صرف سعودی علماء کا' کیونکہ سعودی عرب حنابلہ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے جمیع مکاتب فکر کا بھی مرکز ہے۔
٭٭٭
[1] اجتماعی اجتہاد : تصور‘ ارتقاء اور عملی صورتیں : ص۳۵۷۔ ۳۵۹