کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 491
صفات العلماء السلفیین.''[1] ’’ ہیئۃکی تکوین شاہ کے حکم سے شریعت اسلامیہ کے ماہر و متخصص کبار سعودی علماء سے ہو گی۔ اگرچہ یہ بھی امکان ہے کہ شاہ کے حکم یا دوسرے تقاضوں کے پیش نظر غیر سعودی علماء کو بھی ہیئۃ کی رکنیت عطاء کی جائے بشرطیکہ ان میں سلفی علماء کی صفات موجود ہوں۔ ‘‘ ہیئۃ کبار العلمائ کی جب بنیار رکھی گئی تھی تو اس وقت اس کے اراکین کی تعدادتقریباًسترہ تھی۔ یہ تعداد مختلف ادوار میں گھٹتی بڑھتی رہی ہے۔ ہیئۃکے علماء کا درج ذیل شاہی فرمان کے ذریعے انتخاب کیا گیا۔ '' نحن فیصل بن عبد العزیز آ ل سعود ملک المملکۃ العربیۃ السعودیۃ بعد الإطلاع علی المادۃ الثانیۃ من الأمر الملکی رقم(أ/١٣٧)وتاریخ ٨/٧/ ١٣٩١ھ وبناء علی ما عرضہ علینا نائب رئیس مجلس الوزراء أمرنا بما ھو آت: أولاً یعین المشایخ التالیۃ أسماؤھم أعضاء فی ھیئۃ کبار العلماء ...ثانیاً: علی نائب رئیس مجلس الوزراء تنفیذ أمرنا ھذا.''[2] ’’ہم فیصل بن عبد العزیز آل سعود، شاہ مملکت سعودی عرب شاہی فرمان أ/١٣٧ جاری کردہ بتاریخ ٨/٧/١٣٩١ھ کے آرٹیکل ٢ کی اطلاع اور وفاقی کابینہ کے نائب صدر کی تجویز کے بعد درج ذیل حکم جاری فرما رہے ہیں : اولاًجن مشایخ کے نام آگے بیان کیے جا رہے ہیں، ان کوہیئۃ کا رکن بنایا جا رہا ہے...دوسراوفاقی کابینہ کے نائب صدر پر ہمارے اس حکم کی تنفیذ لازم ہے۔ ‘‘ ہیئۃکے قیام کے وقت کے درج ذیل علماء کو اس کا رکن مقرر کیا گیا: 1۔ شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ صدر 2۔ شیخ سلیمان بن عبید حفظہ اللہ رکن 3۔ شیخ محمد الأمین الشنقیطی رحمہ اللہ رکن 4۔ شیخ صالح بن اللحیدان حفظہ اللہ رکن 5۔ شیخ عبد اللہ خیاط حفظہ اللہ رکن 6۔ شیخ صالح بن غضون حفظہ اللہ رکن 7۔ شیخ عبد الرزاق عفیفی رحمہ اللہ رکن 8۔ شیخ محمد الحرکان حفظہ اللہ رکن 9۔ شیخ محضار عقیل حفظہ اللہ رکن 10۔ شیخ محمد بن جبیر حفظہ اللہ رکن 11۔ شیخ عبد العزیز بن صالح حفظہ اللہ رکن 12۔ شیخ عبد اللہ بن منیع حفظہ اللہ رکن 13۔ شیخ عبد اللہ بن غدیان حفظہ اللہ رکن 14۔ شیخ عبد المجید بن حسن حفظہ اللہ رکن 15۔ شیخ راشد بن خنین حفظہ اللہ رکن 16۔ شیخ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ رکن 17۔ شیخ عبد اللہ بن حمید حفظہ اللہ رکن
[1] الفقہ الإسلامی فی عھد أبناء الملک عبد العزیز سعود:ص۳۹۸ [2] أیضاً:ص۴۰۲۔ ۴۰۴