کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 472
اکثرایسے ہیں جو جدید قانون اور فقہ الواقع سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کے حلقے میں کونسل کی اجتہادی حیثیت ایک طویل عرصے سوالیہ نشان رہی ہے؟۔ موجودہ کونسل چار عدد ڈاکٹر حضرات' دو عدد ریٹائر ججوں ' دو دانشوروں اور ایک مولوی صاحب پر مشتمل ہے۔ اس سے کونسل کی اجتہادی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ محمد منیر أحمد لکھتے ہیں :
''تیسری بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کونسل کے بعض اراکین علماء ہیں اور بعض جج اور وکلاء صاحبان۔ ان دونوں طبقات کے درمیان تعاون بعض حالات میں مشکل ہو جاتاہے جس کی بنیادی وجہ عربی زبان ہے۔ ماہرین قانون ملکی قوانین پر تو دسترس رکھتے ہیں ' مگر بعض اوقات عربی زبان پر مکمل دسترس نہ ہونے کی بناء پر وہ اسلامی قوانین کو ان کے اصل مآخذ سے براہ راست أخذ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض صورتوں میں علماء بھی ملکی قوانین کو اس حد تک زیر غور نہیں لا پاتے جس قدر اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘‘[1]
ہماری رائے یہ ہے کہ کونسل میں ملک کے ایسے باصلاحیت اور رسوخ فی العلم رکھنے والے علماء کو کم از کم دو تہائی نمائندگی دی جائے جو فقہ الواقع' معاصر قوانین' عصری علوم کی مبتدیات اور جدید تہذیب و تمدن سے بھی اچھی طرح واقف ہوں۔ بقیہ ایک تہائی میں ماہرین فن مثلاً ماہرین قانون وغیرہ کو رکھا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں مختلف علوم و فنون کے ماہرین سے کونسل کے مختلف اجلاسات میں فقہ الواقع یا متعلقہ فن کی حد تک مشاورت تو لی جائے لیکن حتمی اور شرعی رائے کے اظہار خیال میں ان حضرات کی رائے کو شمار نہ کیا جائے۔
٭٭٭
[1] اجتماعی اجتہاد : تصور‘ ارتقاء اور عملی صورتیں : ص۲۷۳