کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 438
ہو گی جو اجماع کی ہوتی ہے۔ اس موقف کو علماء کی ایک بڑی جماعت نے اختیار کیا ہے‘ جن میں ابن جریر طبری رحمہ اللہ ‘ امام رازی رحمہ اللہ ‘ أبوالحسن الخیاط رحمہ اللہ ‘ معتزلہ کی ایک جماعت اور ایک روایت کے مطابق امام أحمد رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے حامل ہیں۔ ‘‘ علماء کی ایک تیسری جماعت کا کہنا یہ ہے کہ اجتماعی اجتہاد‘ اجماع تو نہیں ہے لیکن انفرادی اجتہاد سے قوی دلیل ہے اور بعض صورتوں میں یہ اجماع کا قائمقام بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی اسلامی ریاست میں امام وقت کا انتخاب چاہے بیعت کے ذریعے ہو یا مروجہ انتخاب کے طریقے سے‘ دونوں صورتوں میں حکمران وقت کا تعین اجتماعی اجتہاد ہی سے ہو گا نہ کہ اجماع سے۔ لیکن اس کے باوجود اس شخص کی امامت اسی طرح ثابت ہو گی جیسا کہ اس شخص کی امامت کہ جس کے امام ہونے پراجماع ہو۔ ڈاکٹر توفیق الشاوی حفظہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ بذلک یکون الاجتھاد الجماعی بالشوری أقل قوۃ من الاجماع الذی توفرت فیہ الشروط التی قررھا فقھاؤنا للإجماع۔ ولکنہ یجب اعتبارہ أقوی من رأی مجتھد واحد إذا ضم الاجتماع مجتھدا أو أکثر وقد یکون مقارباً أو معادلا لہ فی نظرنا۔ ۔ ۔ نتیجۃ ذلک أن الاجتھاد الجماعی یمکن بذلک یحل محل الإجماع۔ ‘‘[1] ’’پس اس وجہ سے وہ اجتماعی اجتہاد کہ جس کی بنیاد شوری ہو ‘ قوت کے اعتبار سے اس اجماع سے کم درجے کاہوگاکہ جس میں وہ تمام شرائط پائی جاتی ہوں جو ہمارے فقہاء نے اجماع کے لیے مقرر کی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اکیلے مجتہد کی رائے سے اس کو قوی خیال کرنا لازم ہے جبکہ مجتہدین کا اجماع ایک سے زائد مجتہدین ہر مشتمل ہو۔ اور ہماری نظر میں بعض اوقات یہ اجماع کے قریب یا اس کے برابر ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اس ساری بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض صورتوں میں اجتماعی اجتہاد کے بارے میں اس بات کا امکان موجود ہے کہ اسے اجماع کا قائمقام بنایا جا سکے۔ ‘‘ بعض علماء نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ قوت و قطعیت کے اعتبار سے انفرادی اجتہاد اور اجماع کے مابین‘اجتماعی اجتہاد کے کئی ایک درجات ہیں۔ ڈاکٹر خالد حسین الخالد لکھتے ہیں: ’’ إن للاجتھاد الجماعی شبھاً واضحاً بواحد أو أکثر من أنواع الإجماع المختلف فیھا: یری کثیر من العلماء المعاصرین‘ ومنھم الشیخ الدکتور یوسف القرضاوی وأستاذنا الدکتور وھبۃ الزحیلی‘ أن الاجتھاد الجماعی ھو مایسمی إجماع الأغلبیۃ أو الأکثریۃ‘ وھو من الأنواع المختلف فیھا۔ ھذا صحیح‘ ولکن الاجتھاد الجماعی ینطبق علی اتفاق الأغلبیۃ من المجتھدین فی العصر الواحد‘ کما ینطبق علی ما ھو دون ذلک بدرجات‘ لأن أی اجتھاد یتم بالبحث والتشاور بین ثلاثۃ من المجتھدین‘ فصاعدا‘ ھو اجتھاد جماعی معتبر‘ ولکنہ یقوی کلماکثر عددالمجتھدین حتی یشمل أغلبیۃ فقھاء الأمۃ فی عصر من العصور‘ وعلیہ‘ فإنی رجحت فی أطروحتی‘ أن الاجتھاد الجماعی أکثر ما یکون شبھاً بالإجماع السکوتی؛لأنہ لا یشترط فیہ أن یکون المتفقون المصرحون بالحکم أکثریۃ الفقھاء‘ بل یکفی أن یعلن بعض المجتھدین رأیھم‘ قلوا أو کثروا‘ ویسکت الباقون‘ دون إظھار الموافقۃ أو المخالفۃ‘ کما رأینا۔ ‘‘[2] ’’اجتماعی اجتہاد کو اجماع کی ایک یا ایک سے زائد مختلف فیہ اقسام کے ساتھ مشابہت ہے۔ اکثر معاصر علماء ‘کہ جن میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور ہمارے استاذ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی بھی شامل ہیں ‘ کا کہنا ہے کہ اجتماعی اجتہاد کو جو غالب یا اکثریتی اجماع کا نام دیا جاتا ہے اور یہ
[1] فقہ الشوری والاستشارۃ: ص۱۸۹ [2] Dr. Khalid Husain Alkhalid, Alijtehad ul jimae Wa Shura, Retrieved August 29,2009,from http://www.nashiri.net/component/content/article/185--/2661--.html