کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 437
دلیل ہے۔ اس کے بارے میں ڈاکٹر محمد شعبان اسماعیل حفظہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ وإذا کان الإجماع۔ بالمعنی الدقیق۔ وھو: اتفاق جمع المجتھدین فی أی عصر من العصور علی أمر من الأمور‘ غیر ممکن الوجود فی العصر الحاضر‘ لأسباب کثیرۃ‘ فإن الاجتھاد الجماعی من بعض العلماء یمکن أن یقوم مقامہ ‘یؤید ذلک: أن ما أطلق علیہ((إجماع))فی عصر الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم‘ لم یکن إجماعاً بالمعنی الدقیق‘ وإنما ھو: اجتھاد جماعی صادر عن رؤوس الناس وخیارھم وعلمائھم‘ قائم علی التشاور فی الأمور المعروضۃ علیھم‘ مثل ما روی عن أبی بکر رضی اللّٰہ عنہ أنہ کان إذا ورد علیہ أمر لم یجد فیہ نصاً من کتاب أوسنۃ دعا رؤوس المسلمین و علماؤھم فاستشارھم‘ فإذا اجتمع رأیھم علی أمر قضی بہ‘ ثم ینشر ما یتوصلون إلیہ علی الناس‘ لإعلامھم بما توصل إلیہ ھؤلاء المجتمعون‘ وھکذا کان یفعل عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ۔ ولم یؤثر عن أحدھما أنہ کان یتوقف فی الحکم حتی یستشیر کل الصحابۃ‘ أو المجتھدین منھم لبحث أمر من الأمور‘ وإنما کان علی الصورۃ السابقۃ‘ وھو فی الواقع اجتھاد جماعی‘ ویسمیہ بعض العلماء بالإجماع الناقص‘ حیث قسموا الإجماع إلی قسمین: إجماع کامل وإجماع ناقص۔ فالإجماع الکامل: ھو الذی یتم فی اتفاق المجتھدین‘ والناقص: ھو الذی یتم فیہ اجتماع أکثر المجتھدین‘ وغالباً ما یکون فی المستجدات التی لیس فیھا نص من کتاب أو سنۃ‘ وفیہ مجال للرأی من المصالح الدنیویۃ التی تختلف باختلاف الزمان أو المکان‘ کالإجماع علی إمامۃ شخص بعینہ‘ أو علی إعلان حرب علی عدو‘ وھذا فی الواقع اجتھاد جماعی‘ لہ من الحجیۃ ما للإجماع الکامل‘ وإلی ذلک ذھب کثیر من العلماء الأجلاء مثل: ابن جریر الطبری‘ وأبی بکرالرازی‘ أبی الحسین الخیاط‘ وبعض المعتزلۃ‘ والإمام أحمد بن حنبل فی إحدی الروایتین۔ ‘‘[1] ’’ اپنے گہرے مفہوم کے ساتھ اجماع کا وجود یعنی کسی بھی زمانے میں کسی بھی معاملے میں جمیع مجتہدین کا اتفاق‘ عصر حاضر میں کئی اسباب سے ناممکن ہے جبکہ اجتماعی اجتہاد اس کے قائمقام ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانے میں جس چیز پر اجماع کے لفظ کا اطلاق ہوتا تھا‘وہ مذکورہ بالا دقیق معنی میں نہ تھا بلکہ اس کی حقیقت ایک اجتماعی اجتہاد کی سی تھی جو اس دور کے علماء‘ سرداروں اور بہترین لوگوں سے باہمی مشاورت کے بعد اس وقت صادر ہوتاتھا‘جب ان کے سامنے کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ حضرت أبوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب انہیں کوئی ایسامسئلہ پیش آتا‘ جس میں انہیں کتاب اللہ کی کوئی نص یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملتی تو وہ مسلمانوں کے رؤوسا او ر علماء کو بلواتے تھے اور ان سے مشورہ کرتے تھے۔ پس جب کسی مسئلے میں ان کی رائے متفق ہو جاتی تو ا س کے مطابق فیصلہ کر دیتے تھے۔ پھر جس رائے تک یہ اصحاب پہنچتے تھے اس کی خبر لوگوں کو دینے کے لیے اس رائے کو عام کر دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی اسی طرح ہوتا رہا۔ ان دونوں خلفاء میں سے کسی ایک سے بھی یہ مروی نہیں ہے کہ انہوں نے اس رائے کو بیان کرنے میں اس وقت تک توقف کیا ہوجب تک کہ وہ سب صحابہ رضی اللہ عنہم یا ان میں سے جو مجتہد تھے ‘ ان سے اس مسئلے میں تحقیق کے لیے مشورہ نہ کر لیاہو۔ بلکہ یہ معاملہ ایسے ہی تھا جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ یہ درحقیقت اجتماعی اجتہا دتھا‘ جسے بعض علماء اجماع ناقص بھی کہتے ہیں۔ علماء نے اجماع کی دو قسمیں بیان کی ہیں : اجماع کامل اور اجماع ناقص۔ اجماع کامل وہ ہے جس میں تمام مجتہدین کا اتفاق ہو جبکہ اجما ع ناقص وہ ہے جس میں اکثر مجتہدین کا اتفاق ہو۔ غالباً وہ مسائل کہ جو جدید ہوں اوران کے بارے میں قرآن وسنت کی کوئی صریح نص موجود نہ ہو اور ان میں زمانی و مکانی اعتبار سے تبدیل ہونے والی دنیوی مصالح کا اعتبار بھی ہوسکتا ہو‘ ان میں اجتماعی اجتہاد ہی ممکن ہو گاجیسا کہ کسی شخص کی امامت پر اجماع یا دشمن سے اعلان جنگ پر اجماع وغیرہ۔ یہ درحقیقت اجتماعی اجتہا دہی ہو گا اور اس کی حجیت ایسی ہی
[1] الاجتھاد الجماعی وأھمیتہ فی مواجھۃ مشکلات العصر:ص۶۴۔ ۶۵