کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 436
آگے چل کر اس موضوع پر مزید گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اجتماعی اجتہاد اگرچہ اجماع تو نہیں ہے لیکن اجماع کے حصول کا ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ مفتی صاحب فرماتے ہیں : ’’ ولا یمکن لمجمع أو ھیئۃ أن تجمع جمیع فقھاء أھل الأرض کما لا یمکن أن یمنع الفقھاء الآخرون من إبداء آرائھم الفقھیۃ فکیف یمکن أن تکون قرارات مجمع أو ھیئۃ ملزمۃ علی الآخرین أو بمثابۃ إجماع المسلمین؟ نعم! إن قرارات ھذہ المجامع والھیئات مفیدۃ جدا لمعرفۃ الاتجاہ السائد فی المسائل الجدیدۃ وإنھا تکتسب صفۃ المرجعیۃ بقوۃ دلائلھا وکثرۃ قائلیھا فإذا نشرت ھذہ القرارات ولم یظھر لھا مخالف فإنھا تمھد السبیل للإجماع علی تلک المسألۃ بخصوصھا۔ ‘‘[1] ’’کسی بھی اکیڈمی یا ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ زمین روئے ارضی پر موجود تمام فقہاء کو جمع کرے جیسا کہ اس کے لیے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ دوسرے فقہاء کو ان کی فقہی آراء کے اظہار سے باز رکھے۔ اس کے باوجود کسی اکیڈمی یا ادارے کی قراردادیں دوسروں کے حق میں کیسے لازمی حجت یا اجماع امت کے مترادف قرار پائیں گی؟۔ یہ بات درست ہے کہ ان فقہی اکیڈمیوں یا اداروں کی یہ قراردادیں جدید مسائل میں عمومی اورغاالب رجحان کو جاننے کے لیے مفید ہوتی ہیں اور اپنے دلائل کی قوت اور کثرت قائلین کی بنا پر ایک مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پس جب یہ قراردادیں عالم میں پھیل جائیں اور ان کے مخالف کوئی رائے سامنے نہ آئے تو یہ اجماع کا رستہ ہموار کرتی ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید حفظہ اللہ نے اس بات کوواضح کیا ہے کہ اجتماعی اجتہاد ‘ اجماع کے حصول کا ایک ذریعہ تو ہے لیکن اجماع اس کے وجود پر منحصر نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ’’ أنہ من المناسب التنبیہ ھنا إلی ما بذلہ بعض الباحثین من محاولات لربط الاجتھاد الجماعی بالإجماع تارۃ باعتبارہ صورۃ من صور ھذا الإجماع‘ و تارۃ باعتبارہ مقدمۃ لازمۃ للإجماع فلا إجماع إلا باجتھاد جماعی و الواقع أن کلا الرأیین محل کل نظر إذ الفرق قائم بین الاجتھاد الجماعی والإجماع فالاجتھاد الجماعی ھو أحد الوسائل الموصلۃ إلی الإجماع الذی یعد و الحال ما ذکر نتیجۃ و فرق بین الوسیلۃ و النتیجۃ‘ و من جھۃ أخری فإن کون الاجتھاد الجماعی‘ فی بعض الأحیان‘ وسیلۃ مفضیۃ للإجماع لا یستلزم افتقارہ لھذا النوع من الاجتھاد لا سیما و قد شھدت الأمۃ انعقاد الإجماع باجتھادات فردیۃ۔ ‘‘[2] ’’یہاں ہم ایک تنبیہ کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ بعض محققین نے اجتماعی اجتہاد اور اجماع کے مابین ربط بیان کرتے ہوئے اسے اجماع کی صورتوں میں سے ایک صورت قرار دیا ہے یا اسے اجماع کا یوں ایک لازمی مقدمہ قرار دیاہے کہ جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اجتماعی اجتہا دکے بغیر کوئی اجما ع نہیں ہوسکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ دونوں آراء محل نظر ہیں۔ کیونکہ اجتماعی اجتہاد اور اجماع کے مابین فر ق بالکل واضح ہے۔ پس اجتماعی اجتہاد اجماع تک پہنچانے والے ذرائع میں سے ایک قابل اعتبار ذریعہ ہے اور جس کا ذکر کیا گیا ہے(یعنی اجماع)وہ اس کا نتیجہ ہے اور کسی شیء کے ذریعے اور اس کے نتیجے میں فرق ہوتاہے۔ اسی طرح بعض اوقات اجتماعی اجتہاد کا اجماع کے حصول کے لیے ایک ذریعہ بن جانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اجماع کا وجود ہی اجتماعی اجتہاد کا محتاج ہے ‘ خاص طور پر جبکہ امت میں بعض انفرادی اجتہادات پر اجماع کی شہادت بھی موجود ہو۔ ‘‘ اس کے برعکس علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ اجتماعی اجتہاد ‘ اجماع ہی طرح ایک شرعی حجت ہے۔ اس کی ان حضرات کے پاس کیا
[1] الاجتھاد الجماعی:ص۱۴ [2] الاجتھاد الجماعی وأھمیتہ فی نوازل العصر:ص۱۲