کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 434
اکثریت کے اتفاق سے بھی حکم جاری ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اجماع صرف مجتہدین ہی کی طرف سے ہو گا جبکہ اجتماعی اجتہاد علماء کی ایک جماعت کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ جس میں بعض علماء جزوی اجتہادکرتے ہیں اور بعض تو یہ بھی نہیں کرتے۔ اسی طرح اجماع حجت قطعی ہے جبکہ اجتماعی اجتہاد ظنی حجت ہے اور یہ اجماع سکوتی کے قریب کی شیء ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر خالد حسین الخالد اجماع اور اجتماعی اجتہاد کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’۱۔ الإجماع الأصولی‘ رکنہ اتفاق جمیع المجتھدین ویتحقق بہ القطع ویصبح حجۃ ملزمۃ للأمۃ۔ أما الاجتھاد الجماعی فیکفی فیہ اتفاق فئۃ من المجتھدین‘ فلا یتحقق فیہ القطع بالحکم‘ ولا یکون حجۃ ملزمہ للأمۃ۔ ۲۔ الإجماع الأصولی لا یتعدد فی الموضوع الواحد فی العصر الواحد والاجتھاد الجماعی قد یتعدد۔ ۳۔ الإجماع ملزم للأمۃ بذاتہ‘ والاجتھاد الجماعی لا یکون ملزماً إلا بإلزام من ولی الأمر۔ ۴۔ الإجماع الأصولی عام فی الزمان والمکان‘ إلا ما کان مستندہ المصلحۃ المتغیرۃ‘ والاجتھاد الجماعی لیس عاماً فی الزمان والمکان‘ فی الغالب۔ ۵۔ منکر الإجماع القطعی کافر أو فاسق‘ بحسب حالہ فی الإنکار ومنکر الاجتھاد الجماعی لیس کذلک۔ ۔ ۔ إن الفروق الجوھریۃ بینھما‘ تجعلنا نجزم بأنھما مفترقان‘ ولیسا مطابقین من حیث المفھوم۔ ‘‘[1] ’’۱۔ اجماع اصولی کا بنیادی رکن یہ ہے کہ اس پر جمیع مجتہدین کا اتفا ق ہو۔ ایسے اجماع سے علم قطعی حاصل ہوتا ہے اور یہ امت کے حق میں لازمی حجت ہے۔ جبکہ اجتماعی اجتہاد میں مجتہدین کے ایک گروہ کا اتفا ق بھی کافی ہے۔ اس کاحکم قطعی نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ امت کے حق میں ایک لازم حجت ہے۔ ۲۔ اجماع اصولی ایک ہی زمانے میں ایک ہی موضوع سے متعلق ایک ہی ہو سکتا ہے جبکہ اجتماعی اجتہاد ایک سے زائد بھی ہو سکتے ہیں۔ ۳۔ اجماع اصولی بذاتہ امت کے حق میں ایک لازمی حجت ہے جبکہ اجتماعی اجتہاد حکمران کے حکم سے لازم ہو سکتا ہے۔ ۴۔ اجماع اصولی اپنے زمانے اور مکان کے اعتبار سے عام ہوتا ہے سوائے اس کے اس کی بنیا د کوئی مصلحت متغیرہ ہو جبکہ اجتماعی اجتہادعموماً زمانے اور مکان کے اعتبار سے عام نہیں ہوتا۔ ۵۔ اجماع اصولی کا منکر اپنے حالات اور انکارکے تحت کافر یا فاسق ہوتا ہے جبکہ اجتماعی اجتہاد کا منکر ایسا نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ ان دونوں کے مابین یہ جوہری فرق ہمیں قطعی طور پر اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ یہ دونوں جدا جدا چیزیں ہیں اور مفہوم کے اعتبار سے باہم موافق نہیں ہیں۔ ‘‘ ڈاکٹر خالد آگے چل کر اس موضوع سے متعلق اپنی بحث کا خلاصہ نکالتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ والخلاصۃ: إن الاجماع بمعناہ الأصولی المشھور حجۃ قاطعۃ‘وقد وقع فعلاً ‘ ولا سیما فی عصر الصحابۃ والتابعین۔ ۔ ۔ والاجتھاد الجماعی لیس إجماعاً بالمعنی الأصولی‘ ویبقی حجۃ ظنیۃ‘ ولکنھا راجحۃ‘ وأقرب إلی الصواب من رأی اجتھاد فردی‘ ولذلک کان ھو الأسلوب المفضل عند جمیع العلماء فی عصرنا‘ وھو سبیل إلی الوصول إلی الإجماع فی بعض الحالات۔ ‘‘[2] ’’خلاصہ کلام یہی ہے کہ اجماع اپنے اصولی اور مشہور معنی کے مطابق حجت قاطعہ ہے اور یہ بالفعل واقع بھی ہوا ہے خصوصاً صحابہ رضی اللہ عنہم اورتابعین رحمہم اللہ کے زمانے میں۔ ۔ ۔ جبکہ اجتماعی اجتہاد اصولی معنی میں اجماع نہیں ہے۔ ہاں ! یہ ایک ظنی حجت اورراجح دلیل ہو سکتا ہے اور
[1] Dr. Khalid Husain Alkhalid, Alijtehad ul jimae Wa Shura, Retrieved August 29,2009,from http://www.nashiri.net/component/content/article/185--/2661--.html [2] Dr. Khalid Husain Alkhalid, Alijtehad ul jimae Wa Shura, Retrieved August 29,2009,from http://www.nashiri.net/component/content/article/185--/2661--.html