کتاب: عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 432
لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس(طرز عمل)کو فرض قرار دیا ہے لیکن یہ بتلائیں کہ جس بات پر لوگوں کا اجماع ہو گیا ہو اس کے اتباع کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے جبکہ اس(اجماع)کے بارے میں کتاب اللہ کی نہ توکوئی نص موجود ہو اور نہ ہی کوئی ایسی روایت ہوجسے لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے ہوں۔ (سائل نے مزید کہا)کیا آپ کا موقف بھی وہی ہے جو آپ کے علاوہ بعض علماء کا ہے کہ اجماع ہمیشہ کسی ایسی سنت پر ہو گا جو کہ ثابت ہواگرچہ لوگ اس سنت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ کر رہے ہوں۔ میں نے کہا: اگر تو کسی بات پر ان کا اجماع ہو گیا ہے اور وہ اسے اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل بھی کر رہے ہیں تو اس کا معاملہ تو ویسا ہی ہے ان شاء اللہ تعالیٰ جیساکہ انہوں نے بیان کیاہے(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی وجہ سے دین ہے)اور جس کو انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان نہیں کیا ہے(لیکن اس کے دین ہونے پر ان کا اجماع ہے )تو اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہو اور اس کے غیر کابھی احتمال ہے۔ ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اس قسم کے اجماع کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول قرار دیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی چیز کی حکایت جائز ہے جو سن کر نقل کی گئی ہو۔ ‘‘ بعض حضرات نے اس تقسیم کو بنیاد بناتے ہوئے کسی نص کے فہم پراجماع کا انکار کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال لکھتے ہیں۔ : ’’فرض کیجیے صحابہ کسی امر پر متفق ہیں۔ اندریں صورت سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے فیصلے کی پابندی کیا ہمارے لیے بھی ضروری ہے؟ شوکانی نے اس مسئلے میں بڑی سیر حاصل بحث کی ہے اور مذاہب اربعہ نے اس کے متعلق جو رائیں قائم کی ہیں ان سب کا ذکر بھی کر دیاہے۔ میری رائے میں اس مسئلے کا فیصلہ یوں ہوناچاہیے کہ ہم ایک امر واقعی اور امر قانونی میں فرق کریں۔ مثلاً اس مسئلے میں کہ آخری دو سورتیں ’معوذتان‘ قرآن پاک کا جزو ہیں یا نہیں اور جن کے متعلق صحابہ کا بالاتفاق یہ فیصلہ ہے کہ یہ سورتیں جزو قرآن ہیں ‘ہمارے لیے ان کا اجماع حجت ہے‘ کیونکہ یہ صرف صحابہ تھے جو اس امر واقعی کو ٹھیک ٹھیک جانتے تھے۔ بصورت دیگر یہ مسئلہ تعبیر اور ترجمانی کاہو گا۔ لہٰذا ہم کرخی کی سند پر یہ کہنے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ اس صورت میں صحابہ کا اجماع ہمارے لیے حجت نہیں۔ کرخی کہتا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریق انہی باتوں میں حجت ہے جن میں قیاس سے کام نہیں چلتا۔ جن معاملات میں قیاس سے کام لیاجا سکتاہے ان میں ہم اسے حجت نہیں ٹھہرائیں گے۔ ‘‘[1] محمد عمار خان ناصر لکھتے ہیں : ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن و سنت اور دین و شریعت کے نہایت بنیادی تصورات اور احکام کی حد تک تو یہ بات یقیناً درست ہے کہ ان کو نسلاً بعد نسل دین کی حیثیت سے نقل کرنے میں اس امت کے اہل علم اور عوام کا ایک عمومی عملی اتفا ق ہے اور تاریخی معیار پر ہر دور میں اس اتفاق کو ثابت کرنا بھی پوری طرح ممکن ہے‘ لیکن جہاں تک نصوص اور احکام کی علمی تعبیرو تشریح کا تعلق ہے تو کسی مخصوص مسئلے میں امت کے تمام اہل علم یا کم سے کم وہ اہل علم جنھوں نے اس مسئلے پر غور کیااور اس پر باقاعدہ کوئی رائے قائم کی‘ ان سب کی آراء کو استقصاء کے درجے میں معلوم کرنابدیہی طور پر انسانی بساط سے بالکل باہر ہے۔ چودہ سو سال میں ہر دور اور علاقے کے اہل علم کی آراء کو یقینی طور پر معلوم کرنے کا تو کیا سوال‘ تاریخ اسلام کے بالکل ابتدائی دور یعنی صحابہ اور تابعین کے عہد میں بھی اس کاکوئی عملی امکان نہیں پایا جاتا۔ ‘‘[2] اس اشکال کا جواب ہم اجماع صریح کی بحث میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تعبیر کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور میں بھی جن مسائل میں اجما ع کا دعوی کیا جاتا ہے تو اس اجماع میں ابتداء اً اپنی رائے کا اظہار کرنے والے مدینہ کے فقہائے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ بعد میں ان اجماعات کو قانون کا درجہ دے کر نافذ کر دیا جاتا اور یہ اجماعی فیصلے مملکت اسلامیہ کے شرق وغرب میں پھیل جاتے۔ دوسرے شہروں کے صحابہ رضی اللہ عنہم ان اجماعات کو قبول کرتے اور ان کے مطابق فتوی جاری کرتے تھے۔ اس طرح امت کے علماء کا اس
[1] تشکیل جدید إلہیات إسلامیۃ : ص ۲۴۹۔ ۲۵۰ [2] ’حدود وتعزیرات :چند اہم مباحث‘ مولانا مفتی عبد الواحد کی تنقیدات کا ایک جائزہ : ص۶