کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 946
کے علاوہ علما و محدثین بھی شامل تھے۔ ۷۱۲ عیسوی میں محمد بن قاسم رحمہ اللہ کی سربراہی میں اسلامی فوجوں نے مکران کے راستے سندھ کو فتح کر کے ایک ایسی عرب حکومت کی بنیاد رکھی، جن کی دعوت و منہج قرآن و حدیث کی گونج پورے سندھ میں سنی گئی، جس کی سرحد بالآخر شمال میں ملتان تک جا پہنچی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ملتان اس زمانے میں سندھ دھرتی کا حصہ تھا، موجودہ جنوبی پنجاب بہاول نگر، رحیم یار خان ڈویژن، بہاول پور، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان وغیرہ ملتان کی ریاست کا حصہ تھے۔ محمد بن قاسم رحمہ اللہ کے زیرِ کمان مجاہدین اہلِ حدیث کی تشریف آوری سے آلِ توحید کے قدم مضبوط ہوئے۔ خطہ اوچ میں علمائے اہلِ حدیث پیدا ہوئے۔ دینی و علمی درسگاہیں وجود میں آئیں ۔ اوچ کی تاریخ میں جس قدیم ’’مدرسہ فیروزیہ‘‘ کا ذکر ملتا ہے، وہ انہی نیک طینت اسلاف اہلِ حدیث کی خدماتِ قرآن و حدیث سے معمور رہا۔ گذشتہ کئی صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں اہلِ حدیث اسلاف نے ہر دور میں دینی، علمی، تحقیقی، تبلیغی، اصلاحی، فلاحی، سیاسی اور سماجی خدمات پیش کیں ۔ انھوں نے کتاب اﷲ کی تفسیریں اور حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروحات لکھیں ۔ انھوں نے فقہ و فتاویٰ میں اہم کردار ادا کیا۔ میری تحقیق کے مطابق ایک ہزار سے بھی زائد ایسے علمائے کرام ہو گزرے ہیں ، جن کے تذکار مرتب ہی نہیں کیے گئے۔ تاریخ کی بہت اہمیت ہے، اس سے قوموں کو راہنمائی ملتی اور منزل کا تعین آسان ہو جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا بے پناہ کرم خاک سار پر یہ ہوا کہ لکھنے پڑھنے کا سلیقہ آگیا۔ آج سے کئی سال بیشتر میں نے تاریخ اہلِ حدیث جنوبی پنجاب پر کام شروع کیا تو پچھلی تین صدیوں کے گم گشتہ علمائے کرام کے حالات و افکار سے آشنائی ہوئی۔ کام بہت پھیلا ہوا ہے۔ قدم قدم پر وسائل کی ضرورت ہے۔ اس کام کو جس قدر جلدی ہو سکے کر لینا چاہیے۔ میرے خیال میں اگر بڑے ادارے میرے ساتھ عملی معاونت کریں تو ان شاء اﷲ چند ہی سالوں میں رجالِ حدیث پر چالیس کے لگ بھگ کتب منظرِ عام پر آسکتی ہیں ۔ تاریخ کے ان سلسلوں کو مرتب کرنے کے دوران میں مجھے مورخِ اسلام، محسنِ اہلِ حدیث علامہ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی خصوصی سرپرستی بھی حاصل رہی۔ انھوں نے اس موضوع پر میری خوب راہنمائی کی اور از راہِ شفقت اپنی بعض کتب میں شخصیات اور تاریخ پر لکھے گئے مضامین کو بھی شامل کیا ہے اور کئی ایک مقامات پر خاک سار کے متعلق تحسینی کلمات بھی ارشاد فرمائے۔ دیکھیے: چمنستانِ حدیث، بوستانِ حدیث(غیر مطبوعہ)اور تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی رحمہ اللہ ۔ اﷲ تعالیٰ حضرت بھٹی صاحب رحمہ اللہ کو غریقِ رحمت کرے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین تاریخِ اہلِ حدیث و رجالِ حدیث کے متعلق خاکسار کی چند غیر مطبوعہ کتابوں کے اسماء ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔ ان میں سے چند مکمل ہیں اور بعض جزوی حالت میں ہیں ، جو وسائل کی دستیابی پر تکمیل کے مراحل میں داخل ہو جائیں گی۔ ان شاء اللّٰہ ۔