کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 944
والا اہلِ توحید کا پہلا مستقل علمی، ادبی، تحقیقی اور تبلیغی مجلہ ہے، جو تمام باطل قوتوں بالخصوص قادیانی فتنے کی اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے صدائے حق بلند کر رہا ہے، جو 90% اندرون و بیرون شہر مفت ارسال کیا جاتا ہے، جس پر ماہانہ ہزاروں روپے خرچ ہو رہے ہیں ۔ ہمارے جنوبی پنجاب کے چند ایسے آبادی سے بھرپور علاقے ہیں ، جہاں درجنوں قادیانی اپنا ابلیسی جال بچھا کر بیٹھے ہیں ، لیکن وہاں اہلِ توحید کی کوئی مسجد نہیں ہے، ان علاقوں میں اہلِ حدیث کے مراکز کی بہت اَشد ضرورت ہے، جیسا کہ احمد پور شرقیہ شہر سے کچھ دور ڈیرہ نواب صاحب چھاؤنی کے قرب میں مرزائیوں کی ایک عبادت گاہ اور پوری کالونی ہے۔ وہاں دور یا نزدیک کسی مسلک کی مسجد نہیں ہے۔ اس مقام پر ہم مرکز ختم نبوت/ جامع مسجد خاتم النبیین اہلِ حدیث کے قیام کی بھرپور خواہش رکھتے ہیں ۔
اسی طرح اس مرکزی جگہ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر ڈیرہ نواب صاحب معروف مقام ہے۔ کم و بیش دو لاکھ کی آبادی والے اس علاقے میں کوئی اہلِ حدیث مسجد نہیں ہے۔ چولستان کا سیکڑوں میل پر مشتمل خطہ پچھلی ایک صدی سے دعوتِ اہلِ حدیث کا منتظر ہے۔ ان علاقوں کے رہایشی کلمۂ اسلام سمیت ارکانِ اسلام سے بھی ناواقف ہیں ۔ دور دور اِکا دُکا کہیں مساجد ہیں تو وہاں عبادت کے مختلف طریقے دیکھ کر صحیح العقیدہ مسلمان حیران رہ جاتا ہے کہ ان لوگوں نے اﷲ کی عبادات میں کس قدر تبدیلی کر رکھی ہے۔۔۔۔ قصور ان کا بھی نہیں ۔ یہاں کے باسیوں تک توحید و سنت کی دعوت دینے والا کوئی آیا ہی نہیں ۔ اس لیے اسلام کی صحیح تعلیمات سے عاری یہ لوگ صدیوں سے رائج خود ساختہ عبادات کے طریقے اپنا کر ’’حق بندگی‘‘ سے سبکدوش ہو رہے ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ مرزائیوں ، عیسائیوں اور دیگر باطل تنظیمیں خدمتِ خلق و انسانیت کے نام پر ان ناخواندہ لوگوں کو اپنے مزعومہ عقائد و افکار کے مطابق تربیت کر رہے ہیں ۔
ادارہ تفہیم الاسلام نے اس خطے کی بستیوں اور محلوں کو اپنی دعوت و تبلیغ کا ہدف بنا رکھا ہے۔ ان حلقوں میں باقی علاقوں کی نسبت دعوت کا کام کرنا کافی مشکل ہے، کیوں کہ یہ علاقے روایتی مولویوں اور پیروں کی آماجگاہیں ہیں ۔ بڑی بڑی خانقاہیں ، درگاہیں ، آستانے، امام باڑے موجود ہیں ، جو اہلِ توحید کی دعوت کے لیے ایک کھلے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں ہمارے ایمان و اعتقاد کی خرابی سب سے بڑی وجہ ہے، سوچ اور فکر میں افراط و تفریط ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے پوری دنیا ہماری پشت پر آکر کھڑی ہو جائے، ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اقوامِ عالم کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر جنگ جو باہر کی دنیا میں برپا ہے، وہ پہلے انسانی ذہن میں لڑی جاتی ہے، یہیں فتح یا شکست کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کا اظہار خارجی سطح پر رونما ہوتا ہے۔ جن اقوام نے اس راز کو پا لیا، انھوں نے اپنے ایک ایک فرد کے ذہن میں ناقابلِ شکست ہونے کا جذبہ راسخ کر دیا۔
ماہنامہ مجلہ ’’تفہیم الاسلام‘‘ کے پیشِ نظر مائنڈ سیٹ کی تبدیلی اور عوام میں عقیدۂ توحید و سنت کے شعور کی بیداری کا یہی مشن ہے۔ الحمد ﷲ تفہیم الاسلام اپریل ۲۰۰۲ء سے مسلسل شائع ہو رہا ہے اور اسے مقامی حلقوں میں بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ ادارہ پڑھے لکھے لوگوں کو اسلام کے حقیقی منہج پر انسپائر(Inspirw)اور