کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 942
معروضات کو پیش کرنے کا مقصد اپنے خطے بہاول پور میں مسلکِ اہلِ حدیث کے اولین نقوش کی نشان دہی کرنا ہے۔
۱۷۴۸ء میں بہاول پور کی بنیاد پڑتے ہی نواب بہاول خان اول کی دعوت پر علامہ شیخ محمد ہاشم فاروقی رحمہ اللہ کے ہمراہ ملتان سے اہلِ حدیث کا پہلا قافلہ بہاول پور میں وارد ہوا۔ علامہ محمد ہاشم فاروقی، برصغیر پاک و ہند کے عظیم محقق اور مصنف کتبِ کثیرہ علامہ ابو محمد عبدالحق الہاشمی العمری رحمہ اللہ کے جد امجد تھے۔
احمد پور شرقیہ سے ۱۲ میل کے فاصلے پر مغرب میں ایک مقام ’’اوچ‘‘ ہے، جو تاریخی حوالے سے انتہائی اہم اور سندھ کے قدیم ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کئی صدیاں پیشتر تو یہ خطہ مسلک اہلِ حدیث کی دعوت سے معمور رہا ہے۔ یہاں علمائے حدیث نے علمی درس گاہیں قائم کیں ، لیکن اب یہ علاقہ فکری اعتبار سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ صدی پیشتر مولانا عبدالحق الہاشمی العمری رحمہ اللہ کے اکابر ’’اوچ‘‘ میں تشریف لائے، انھوں نے یہاں شرک و بدعات، رسوم و رواج اور دیگر خرافات کو دیکھا تو ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں عقیدۂ توحید و سنت کی دعوت علی الاعلان پیش کی۔ اس عظیم دعوت کے بدلے میں انھیں سخت آزمایشی مراحل سے بھی گزرنا پڑا۔ بے شمار لوگ خرافات اور قبیح رسومات کو چھوڑ کر قرآن و حدیث کی تعلیم پر آگئے اور دامنِ توحید میں آباد ہونے کی سعادت حاصل کی۔ ؎
یہ رتبہ ملا، جسے مل گیا ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
اس علاقے میں مسلکِ اہلِ حدیث کی عظمت کو اُجاگر کرنے میں سب سے اہم کردار حضرت سید میاں نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کے نامور تلامذہ کا ہے۔ علامہ قادر بخش ریاستی، علامہ مولانا سید عبدالرحیم شاہ امرتسری، علامہ عبدالواحد الہاشمی(علامہ عبدالحق الہاشمی العمری رحمہ اللہ کے والد گرامی)علامہ مفتی احمد، علامہ عبدالعزیز الاثری، خواجہ عبدالقادر دہلوی، علامہ مولانا عبدالتواب ملتانی، علامہ مولانا عبدالحق ملتانی، علامہ مولانا محمد رمضان سلفی، علامہ مولانا عبدالعزیز ڈیروی، علامہ مولانا خلیل الرحمن مظفر گڑھی، علامہ مولانا محمد احمد مدنی رحمہم اللہ وغیرہم حضرت میاں صاحب مرحوم و مغفور کے وہ چوٹی کے شاگرد ہیں جو ان کے بارگاہِ علم سے استفادہ کر کے آئے اور اپنے اپنے علاقوں احمد پور شرقیہ(ضلع بہاول پور)، خان پور(ضلع رحیم یار خان)، منڈی صادق گج(ضلع بہاول نگر)، شجاع آباد(ضلع ملتان)، مظفر گڑھ، ملتان، جھنگ اور ڈیرہ غازی و لیّہ اور جام پور(ضلع راجن پور)میں علمی درسگاہیں قائم کیں اور بے شمار نامور تلامذہ پیدا کیے۔ میاں صاحب رحمہ اللہ کے مستفیدین نے تردیدِ قادیانیت میں بھی ایسا تاریخی اور نادر نمونہ پیش کیا، جس پر تا قیامت یہ سرزمین ناز کرتی رہے گی۔
بہاول پور کی تاریخ میں مشہور واقعہ مرزائیت کے، جو تاریخ میں ’’مقدمہ بہاول پور‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، تانے بانے احمد پور شرقیہ کی سرزمین سے ملتے ہیں ۔ بہاول پور کی عدالت نے تاریخ میں پہلی بار مرزائیوں کو کافر قرار دیا تھا۔ اس میں علمائے اہلِ حدیث بہاول پور کا کردار ہمیشہ یادگار رہے گا، جسے یار لوگوں نے نہایت چابکدستی سے اپنے کھاتے میں ڈال رکھا ہے۔ ؎