کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 357
[1]
[1] اقم خود بے عمل اور خطاکار ہے، صحیح احادیث ہی پر عمل نہیں ہو پاتا تو پھر صوفیہ کی طرح ضعیف اور موضوع روایات کو کہاں تک ڈھوتا پھرے گا۔ پھر استدلال کے باب میں علمائے محققین کے یہاں تفریق مرجوح ہے۔ راقم کی یہ عادت نہیں کہ بلا وجہ کسی کی خصوصیات میں مداخلت کرے، لیکن جہاں اپنے عقیدہ و فکر ہی کو نشانہ بنایا جائے تو اس کی وضاحت کو اوجب الواجبات سمجھتا ہے اور یہ موقف اپنے بزرگ بھٹی صاحب کی تحریروں میں جا بجا موجود ہے، جس سے دعوتی زندگی میں راقم نے فائدہ اٹھایا ہے۔ چونکہ مولانا بھٹی صاحب نے یہ موضوع ’’دبستانِ حدیث‘‘ میں خود ہی چھیڑا تھا، اس لیے ع ’’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے‘‘ کے بیان سے اس کی وضاحت راقم نے ضروری سمجھی۔ اگر کوئی اپنے لیے حملے کا حق محفوظ رکھتا ہے تو کم از کم دوسرے کے لیے اس کو دفاع کا حق بھی تسلیم کرنا چاہیے، ورنہ نا انصافی ہوگی۔ راقم نے بھٹی صاحب کی تحریروں سے بھرپور استفادہ کیا، اس لیے جذبۂ شکر گزاری کے طور پر ان کا تذکرہ ان کے احسانات کے باب میں کر رہا ہے۔ اﷲ تعالیٰ انھیں سلامت رکھے۔