کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 356
[1]
[1] پنے ممدوحین کے خلاف اتنا مواد اکٹھا کر دیا ہے کہ دائرۂ تصوف سے خارج مؤرخین کو ضرورت ہی نہیں کہ نعوذ باﷲ اپنی طرف سے مزید مواد کا اضافہ کر کے گناہ گار بنیں ۔
آخری دور میں مولانا ابو الحسن علی ندوی نے اپنے آپ کو برصغیر میں اہلِ استقامت صوفیہ کا وکیل بنا کر پیش کیا ہے۔ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے عالمِ اسلام(بطور خاص خلیجی ممالک)میں اہلِ حدیث کے خلاف تحریری شکایت کی ہے کہ یہ لوگ اپنی دعوت کے ذریعے برصغیر میں حنفی سوادِ اعظم کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنی غیر مقلدانہ روش سے معاشرے میں اختلاف کے بیج بوتے ہیں ۔ یہ اتحادِ امت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں ، اس لیے ان کے ساتھ تعاون کسی بھی حال میں مناسب نہیں ۔
راقم نے مولانا ندوی کی اس تحریر کے پیشِ نظر بہ عنوان ’’کلمۃ التوحید أساس توحید الکلمۃ‘‘ مضمون لکھا، جو عربی جرائد و مجلات میں شائع ہوا اور احباب نے اس کا فوٹو کروا کے تمام اہم اداروں کے ذمے داروں تک پہنچایا۔
’’مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات‘‘ کے بعد عرض یہ ہے کہ مولانا علی میاں ندوی اور ان کے والد گرامی ہی کی تحریروں میں برصغیر کے ان صوفیہ کے تراجم و تذکرے ملاحظہ کیے جائیں تو راقم جیسے ایک ادنیٰ طالب علم کو بھی اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان میں کشف و کرامت، ریاضات و مجاہدات، مراقبات و مکاشفات، قبروں پر اعتکاف، وادی اور جنگل میں سیاحت، گوشہ نشینی، جمعہ اور جماعات کا ترک، عقیدۂ وحدت الوجود اور سماع اور رقص و سرود وغیرہ ہی جیسے اصاف و اخلاق کو ما بہ الامتیاز صفات کے طور پر پیش کیا ہے۔
قاضی حمید الدین ناگوری، خواجہ نظام الدین اولیا اور فخر الدین دہلوی کو ان کے طرزِ عمل کی روشنی میں اسی وقت کے علما اور قضاۃ نے ضلالت و گمراہی اور فسق و بدعت کی طرف منسوب کیا اور ناگوری کو جلا وطنی کی سزا دی۔
ایک طرف تصوف کے معتمد علیہ مؤرخین اپنی کتابوں میں ان کے مذکورہ بالا اقوال و اعمال کو ان کی خصوصیات و امتیازات کے سیاق میں پیش کریں اور دوسری طرف انھیں عقیدۂ صحیحہ، اتباعِ کتاب و سنت، دعوتِ الی اﷲ اور فنا فی الشریعہ کے اعزاز سے بھی نوازیں ، راقم کا ذہن اس تضاد بیانی کے استیعاب سے قاصر ہے۔
دہلی، اجمیر اور لاہور وغیرہ کے درباروں میں ان صوفیہ کے حوالے سے اسلام کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، ان کا اس سے مکمل طور پر عہدہ برآ ہونا محتاجِ بحث و تحقیق ہے۔ چور دروازے ان صوفیہ کے عقائد و اعمال نے اپنے زمانے ہی میں کھولے ہیں ، اس لیے ان کی تعلیم کو بگاڑ کر پیش کرنے والوں ہی پر مکمل ذمے داری ڈالنی خلافِ انصاف ہے ؎
ألقاني في الیم مکتوفا وقال لي إیاک إیاک أن تبتل بالماء
’’ہاتھوں کو باندھ کر مجھے دریا میں پھینک دیا اور کہا کہ بھیگنا نہیں ہے۔‘‘
اہلِ تصوف سے اختلاف ان کے ان ظاہری اقوال و اعمال کی بنا ہی پر نہیں ، بلکہ صحیح عقیدے کی بنا پر ہے، کیوں کہ مرجع معصوم(کتاب و سنت)سے کماحقہ انھوں نے استفادہ ہی نہیں کیا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’اگر ماحول میں ایسے لوگوں کی کثرت نہ ہوتی اور انھیں ’’سادات الأنام، مشائخ الإسلام، أھل التوحید و التحقیق و أفضل أھل الطریق‘‘ کا خطاب نہ دیا جاتا تو ان کے اقوال کے بطلان اور ان کی گمراہیوں کی وضاحت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔‘‘(فتاویٰ: ۲/ ۳۵۷، ۳۵۸)