کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 355
[1]
[1] ے ان لوگوں نے اپنے لیے یہ نام پسند کیا، جس کے مشتقات کا قرآنِ کریم، جملہ کتبِ حدیث اور دواوینِ سنت میں کہیں وجود نہیں ۔ تقویٰ شعاری، زہد و عبادت، صبر و توکل، پابندیِ شریعت اور ہم دردیِ خلائق جیسے اوصافِ جمیلہ و اخلاقِ جلیلہ کو صرف صوفیوں کی میراث جتانا کہاں کا انصاف ہے؟ اور ان اوصاف سے متصف علما و فضلا کو صوفی ہی کہنا، کہاں کی تحقیق ہے؟ اشاعتِ اسلام اور صوفیہ کے تعلق سے دوسری رائے یہ ہے کہ تصوف کے اغراض و مقاصد میں اشاعتِ اسلام کا کہیں تذکرہ نہیں ، جو اسلام ان حوالوں سے پھیلا ہے، اس اسلام کا حشر، صرف برصغیر ہی میں نہیں دنیا کے کسی بھی خطے میں ، ہمارے سامنے ہے۔ برصغیر کے تمام معروف صوفیوں کے یہاں عقیدۂ وحدت الوجود قدرِ مشترک ہے۔ ان کے قول و فعل کے بعض پہلوؤں سے نہیں ، بلکہ اصل وجودی و شہودی عقیدہ و فکر سے اختلاف ہے۔ بہت ممکن ہے کہ دوسروں نے بہت پہلے سے ان کی تعلیم کو بگاڑ کر پیش کیا ہو، لیکن عقائدی و فکری انحراف کی ذمے داری تو انہی پر آتی ہے۔ اس طرح شکوک و شبہات پیدا کر کے اصل ذمے داری سے انھیں عہدہ برآ نہیں کیا جا سکتا۔ جن ثقہ مصنفین نے پہلے یا اب صوفیہ کے بارے میں لکھا ہے، انھوں نے شرعی حدود میں رہ کر شرعی نقطۂ نظر سے ان کے عقائد و نظریات کا تجزیہ کیا ہے۔ اگر فریقین کی کوئی تحریر یا تحقیق شرعی قواعد و ضوابط سے دور ہو تو بحث و تحقیق کی دنیا میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ حقائق کے اظہار میں جذبات کا دخل مناسب نہیں ۔ دھونی رمانے والوں کو ’’صوفی‘‘ کہنا اس لفظ کی توہین ہے، لیکن تقویٰ شعاروں کو ’’صوفی‘‘ کا خطاب دینا کون سی شرعی اصطلاح ہے؟ عصرِ حاضر میں چار طریقوں (چشتی، سہروردی، نقشبندی اور قادری)پر بیعت لینا اور انھیں قرآنِ کریم میں وارد(سورۂ محمد: ۱۵)’’انہارِ اربعہ‘‘ سے بہ رضا و رغبت تشبیہ دینا کون سی تفسیر ہے؟ اور ان صوفیوں نے اس بیعت کی کن شرعی حدود میں رہ کر ابتدا اور پابندی کی ہے؟ شرعی حدود کی پابندی کی شرط دونوں طرف سے ضروری ہے۔ میدانِ تحقیق میں ابتدا ہی سے رجحان بنا کر کوئی کام کیا جائے تو تحقیق متاثر ہو جائے گی۔ برصغیر میں اشاعتِ اسلام کے سلسلے میں صوفیہ کی کوششوں کا انکار بہت مشکل ہے، لیکن ان کے کشف و کرامات سے متاثر ہو کر جو اسلام پھیلا، اس کا خمیازہ برصغیر آج تک جھیل رہا ہے، ورنہ تحریکِ اہلِ حدیث یا کسی اور تحریک کی ضرورت ہی نہ محسوس ہوتی۔ مسئلہ تصوف اتنا نازک اور حساس ہے کہ ’’بعض تصانیف‘‘ کے ناموں ہی سے(بغیر ان کے مشمولات کا مطالعہ کیے ہوئے)یہ اندازہ لگا لیا جائے کہ وہ تصوف کے خلاف ہیں اور دوسری طرف تصوف پر اظہارِ خیال کے لیے ضروری قرار دیا جائے کہ بغیر اصل کتابوں کے مطالعے کے علمائے کرام صوفیوں کے بارے میں نہ کچھ کہیں اور نہ لکھیں (اس سے اپنے یک طرفہ رجحان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔)ورنہ بزرگوں کا احترام باقی نہ رہ پائے گا۔ اپنے بزرگ مولانا بھٹی صاحب کی تحریروں سے ہی میں نے صراحت و وضاحت سیکھی ہے۔ ان کی تحریروں سے یہ موقع ملا کہ اپنا بھی موقف واضح کر دیا جائے۔ ان امور کا تعلق عقائد اسلام سے ہے، عواطف و جذبات سے نہیں ۔ راقم نے اپنی مستقل تصانیف اور ضمنی ابواب و فصول میں قدرے تفصیل کے ساتھ برصغیر کے ان تمام صوفیوں اور ان کے عقائد و افکار اور اقوال و اعمال کا شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لیا ہے، جن کے اسمائے گرامی کا تذکرہ مولانا بھٹی صاحب نے صراحت کے ساتھ کیا ہے اور تقریباً بارہ تیرہ سو صفحات میں راقم نے اپنی کم علمی کے باوجود ان صوفیہ کے اصل مصادر و مراجع اور ان کے معتمد علیہ مورخین کی تحریروں ہی پر اعتماد کی کوشش کی ہے۔ صوفیہ کے ان معتمد علیہ مورخین نے حقائق کی روشنی میں