کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 354
[1]
[1] ’دبستانِ حدیث‘‘(ص: ۶۲۳۔ ۲۳۴)میں راقم کا ترجمہ شاملِ اشاعت ہے۔ اس میں مولانا بھٹی صاحب نے تصوف اور صوفیہ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار فرمایا ہے اور صوفیہ کو نشانۂ تنقید بنانے پر ناگواری ظاہر کی ہے۔ اس تحریر سے اپنے بزرگ کے سامنے اپنے موقف کی وضاحت مقصود ہے اور بس! میں اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ مولانا بھٹی صاحب کی تحریروں کے ذریعے ’’تصوف اور صوفیہ‘‘ کے بارے میں ان کا موقف سمجھنے کا بھی موقع ملا اور ان کو بھی میری ’’بعض تصانیف کے ناموں سے‘‘ اشارہ ملا کہ میں اس مشرب کا آدمی نہیں ہوں ، بلکہ صوفیت کے ناقدین میں سے ہوں ۔ فرماتے ہیں : ’’بیس پچیس برس سے ہمارے بعض اصحابِ قلم نے صوفیہ پر تنقید کو اپنے لیے ضروری قرار دے رکھا ہے۔ مولانا صلاح الدین کی بعض تصانیف کے ناموں سے اشارے ملتے ہیں کہ انھوں نے بھی اپنی تحقیق کے مطابق یہ فریضہ ادا فرمایا ہے۔ میں نے ان کی کتابیں نہیں پڑھیں ، اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ ان کے نزدیک ’’صوفی‘‘ کی کیا تعریف(ڈیفی نیشن)ہے۔‘‘ اس کے بعد ’’صوفی‘‘ کی تعریف کی گئی ہے اور جماعت اہلِ حدیث کے کوہِ وقار و تقویٰ شعار حضرت سید عبداﷲ غزنوی وغیرہ جیسے علما و فضلا کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا: ’’اسی طرح آج سے سیکڑوں برس قبل کے برصغیر میں بہت سے بزرگانِ دین اور صوفیائے عظام کی مساعیِ تبلیغ سے لا تعداد غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ ان صوفیہ میں شیخ علی ہجویری اور دیگر بہت سے حضرات شامل ہیں ۔‘‘ مزید فرمایا: ’’ان کے قول و عمل کے بعض پہلوؤں سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے اور شرعی حدود میں رہ کر اختلاف کرنا کوئی بُری بات نہیں ، بلکہ یہ بھی واقعہ ہے کہ ان کی تعلیم کو بعض لوگوں نے بگاڑ کر پیش کیا اور بگاڑ کا یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔‘‘ ’’بعض حضرات چمٹے بجانے اور دھونی رمانے والوں کو ’’صوفی‘‘ قرار دیتے ہیں ، ان کو ’’صوفی‘‘ کہنا اس لفظ کی توہین ہے۔‘‘ ’’بہر حال اس فقیر کا مطالعاتی اور ذاتی رابطہ ان صوفیہ سے پڑا ہے جو عالم بھی تھے اور متقی بھی۔ بحمد اﷲ غلط کردار صوفیوں سے نہیں پڑا۔‘‘ ’’سیکڑوں برس قبل کے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں صوفیہ کی کوششوں سے انکار کرنا بہت مشکل ہے۔‘‘ ’’میرے خیال میں یہ مسئلہ بہت نازک ہے۔ ہمارے علمائے کرام کو اس موضوع کی اصل کتابیں پڑھ کر ہی اظہارِ رائے کرنا چاہیے۔ جو چیزیں الحاقی یا غلط ہیں ، انھیں چھوڑ دیجیے، لیکن بزرگوں کا ذکر احترام سے کیجیے۔‘‘ (دبستانِ حدیث، ص: ۶۳۳۔ ۶۳۴) ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے: ؎ آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کر ناخدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا ہمارے لائقِ صد احترام بزرگ بھٹی صاحب کی صوفیہ کے بارے میں یہی تحقیق ہے، لیکن ایک دوسرا فریق بھی ہے جس کی رائے ان کے بارے میں کچھ مختلف ہے۔ صوفیہ پر تنقید کا فریضہ بیس پچیس برس سے نہیں ، بلکہ علمائے ثقات نے اسی وقت سے ادا کرنا شروع کر دیا تھا، جب