کتاب: ارمغان مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی - صفحہ 353
کا انعقاد کیا کرتے تھے اور مجھے بھی اس میں شامل ہونے کا کہتے تھے۔ میں مولانا ندوی رحمہ اللہ کے ساتھ پروگرام بناتا رہتا تھا کہ آج یا کل ضرور جائیں گے، مگر نہ جا سکے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے دستِ راست ڈاکٹر راشد رندھاوا صاحب اپنی رہایش گاہ پر اس مجلس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ میں کئی مرتبہ بھٹی صاحب رحمہ اللہ سے دعا کی غرض سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ بسا اوقات ان سے ہونے والی گفتگو کو یادگار کے طورپر لکھ لیا کرتا تھا اور کبھی کبھی باعثِ اعزاز سمجھتے ہوئے ریکارڈ بھی کر لیتا تھا۔ اس وقت بھی ان کا مخصوص اندازِ گفتگو اور مسکراتا چہرہ میرے سامنے ہے۔ حضرت بھٹی صاحب رحمہ اللہ ساری زندگی اللہ کے برگزیدہ بندوں کا تذکرہ اپنی کتابوں میں لکھتے لکھتے اللہ کے پاس چلے گئے۔ رحمتِ الٰہی سے کامل امید ہے کہ وہ انہی برگزیدہ ہستیوں کے ساتھ برزخی زندگی میں محوِ استراحت ہوں گے۔ اللہ پاک ہمیں بھی ان کی تعلیمات پر عمل پیرا کر کے ان کے لیے صدقہ جاریہ اور ان کی کتابوں کو تاقیامت پوری امت کے لیے خیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین [1]
[1] برصغیر میں اشاعتِ اسلام کے سلسلے میں صوفیہ کی کاوشوں کے متعلق محترم بھٹی صاحب مرحوم کے اس نقطۂ نظر کے بارے میں فضیلۃ الشیخ مولانا صلاح الدین مقبول احمد نے ایک تنقیدی مضمون بھی لکھا ہے، جو ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور(۱۳؍ جولائی ۲۰۱۲ء)میں اشاعت پذیر ہوا۔ موضوع کی مناسبت سے وہ مضمون بھی اس تحریر کے آخر میں درج کیا جا رہا ہے، تاکہ اصحابِ علم کی یہ علمی تحریریں اور ان کا موقف ہمارے سامنے آجائے۔ ذیل میں ملاحظہ کیجیے نامور محقق و مصنف مولانا صلاح الدین مقبول حفظہ اللہ کا وہ مضمون ’’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے‘‘ اور اس کے شروع میں حضرت بھٹی صاحب مرحوم کا وضاحتی نوٹ! خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے صوفیہ اور تصوف کے بارے میں مولانا محمد اسحاق بھٹی کی رائے اور راقم کی وضاحت (مولانا)صلاح الدین مقبول احمد مولانا صلاح الدین مقبول احمد کا شمار ہندوستان کے مشہور علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں اور جو کچھ لکھتے ہیں ، محققانہ انداز میں لکھتے ہیں ۔ سالہا سال سے کویت میں مقیم ہیں اور خدمتِ اسلام میں مصروف؛ وہ ماشاء اﷲ نہایت باہمت عالم ہیں ۔ انھوں نے اردو اور عربی دونوں زبانوں میں دادِ تحقیق دی ہے اور اردو کی بعض کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ میں نے اپنی ایک کتاب ’’دبستانِ حدیث‘‘ میں ان کے حالات بیان کیے ہیں اور صوفیہ سے متعلق ان کے افکار کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس پر انھوں نے مجھ سے اختلاف کا اظہار فرمایا ہے۔ اس باب میں ان کی جو تحریر مجھے کویت سے موصول ہوئی ہے، اس میں انھوں نے یہ نہیں لکھا کہ اسے کہیں شائع کیا جائے، لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ اسے ’’الاعتصام‘‘ کے قارئین تک پہنچایا جائے۔ میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ صدیوں پیشتر کے ہندوستان میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی ہے، اس میں صوفیہ کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ کسی بزرگ یا نیک شخص نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اسے ’’صوفی‘‘ کہا جائے۔ لوگوں نے خود ہی انھیں صوفی کہنا شروع کر دیا۔ آئیے مولانا ممدوح کی تحریر کا مطالعہ کیجیے۔(محمد اسحاق بھٹی)