کتاب: ارکان اسلام سے متعلق اہم فتاوے - صفحہ 262
جواب: صحیح قول یہی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا جائز ہے لیکن سنت یہ ہے کہ زوال کے بعد اور غروب سے پہلے کنکریاں مارے۔ بصورت آسانی یہی افضل ہے وگرنہ غروب آفتاب کے بعد مارے۔ جو کوئی کمزور لوگوں اور عورتوں کے ساتھ مزدلفہ سے روانہ ہو جائے اس کا حکم انہی لوگوں کا حکم ہے اس لیے جو طاقتور افراد(محرم مرد،ڈرائیور اور دوسرے طاقتور لوگ)عورتوں کے ساتھ ہوں گےوہ بھی رات کے آخری پہر کنکریاں مار سکتے ہیں۔ سوال نمبر43: حاجی کنکریاں مارنا کب شروع کرے گا؟ اور کیسے مارے گا؟ کنکریوں کی تعداد کیا ہو گی ؟ کس جمرہ سے کنکری مارنے کی ابتداء کرے گا؟ اور کہاں انتہاء ہو گی؟ جواب: بقرہ عید کے دن پہلے جمرہ کو کنکریاں مارے یعنی اس جمرہ کو جو مکہ مکرمہ سے قریب ہے اور جسے جمرۃ العقبہ کہا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص یوم قربانی کی رات کو ہی کنکریاں مارلے تو صحیح ہے لیکن افضل یہی ہے کہ صبح آفتاب نکلنے کے بعد مارے۔غروب آفتاب تک کنکریاں ماری جائیں گی۔اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی وجہ سے غروب آفتاب سے قبل نہ مار سکے