کتاب: ارکان اسلام سے متعلق اہم فتاوے - صفحہ 259
سنت یہ ہے کہ فجر کی نماز اور پوپھٹنے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ نہ ہو۔وہاں سے منیٰ تلبیہ کہتا ہوا روانہ ہو۔فجر کی نماز کے بعد اللہ کا ذکر کرے اور دعائیں مانگے اور پوپھٹنے کے بعد تلبیہ کہتا ہو منیٰ کی طرف روانہ ہو جائے۔ کمزور عورتوں،مردوں اور بوڑھوں کے لیے مزدلفہ سے آدھی رات کے بعد روانگی جائز ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو یہ اجازت دی ہے ان کے علاوہ دوسرے طاقت والوں کے لیے سنت یہ ہے کہ مزدلفہ میں قیام کریں فجر کی نماز ادا کریں اور نماز فجر کے بعد اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کریں،پھر طلوع آفتاب سے قبل روانہ ہو جائیں۔مزدلفہ میں دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا سنت ہے جیسا کہ عرفہ میں کیا تھا۔مزدلفہ کا پورا میدان قیام کی جگہ ہے۔ سوال نمبر39: ایام تشریق(ذی الحجہ کی گیارہ،بارہ اور تیرہ تاریخیں)میں منیٰ کے باہر رات گزارنے کا کیا حکم ہے چاہے تو قصداً ایسا کرے یا منیٰ میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے؟ اور منیٰ سے واپسی کب ہو گی؟ جواب: صحیح قول یہ ہے کہ گیارہ اور بارہ کی راتیں منیٰ میں گزارنی واجب ہے اہل تحقیق علماء کرام نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے اور یہ حکم مردوں اور عورتوں سب کے لیے ہے۔اگر منیٰ میں جگہ نہ ملے تو وجوب ساقط ہو جاتا ہے اور کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوتا۔ہاں اگر کوئی شخص بغیر عذر منیٰ میں رات نہ گزارے تو اس پر دم