کتاب: ارکان اسلام سے متعلق اہم فتاوے - صفحہ 258
دو اقامتوں کے ساتھ ظہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ابتاع کرتے ہوئےپڑھے اور غروب آفتاب تک ذکر ودعاء تلاوت قرآن اور تلبیہ میں مشغول رہے اور کثرت کے ساتھ مندرجہ ذیل اذکار کا ورد کرتا رہے
"لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‘سُبْحَانَ اللّٰهِ،وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ،وَلا إِلَهَ إِلا اللّٰهُ،وَاللّٰهُ أَكْبَرُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ "
دعا کے وقت قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھائے۔اللہ کی حمد بیان کرے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔میدان عرفات میں کسی جگہ بھی قیام صحیح ہے۔غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لیے سکون و وقار کے ساتھ کثرت سے تلبیہ کہتا ہواروانہ ہو۔مزدلفہ پہنچ کر مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اذان اور دواقامتوں کیسا تھ ادا کرے۔
سوال نمبر38: مزدلفہ میں قیام اور رات گزارنے کا کیا حکم ہے اور اس قیام کی مدت کیا ہے؟ حجاج کرام کی وہاں سے واپسی کب شروع ہو گی؟
جواب: صحیح رائے یہ ہے کہ مزدلفہ میں رات گزارنی واجب ہے۔بعض نے اسے رکن بتایا ہے اور بعض نے مستحب لیکن صحیح رائے یہی ہے کہ واجب ہے اور جو وہاں رات گزارے وہ قربانی کرے۔اور