کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 99
بھی تجھ سے روک نہیں سکتا۔ ‘‘ ابن الدیلمی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا:’’میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ شبہات پیدا ہوگئے ہیں ، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ جس سے اللہ تعالیٰ میرے وہ شبہات ختم کردے۔‘‘ تو انہوں نے فرمایا : ’’ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کرے تو یہ اس کی طرف سے ان پر ظلم نہ ہوگا ، اوراگر وہ ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے کہیں زیادہ ہو گی ، اور اگر تم اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرمائے گا یہاں تک کہ تم تقدیر پر ایمان لے آؤ ، اور اس بات کا یقین کر لو کہ جو چیز تمہارے مقدر میں لکھی ہوئی ، وہ تم سے چوک نہیں سکتی ، اور جو چیز تمہارے مقدر میں نہیں لکھی ہوئی ہے وہ تمہیں مل نہیں سکتی، ( اور یاد رکھو !) اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی اورعقیدہ پر آئی تو تم جہنم میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ ابن الدیلمی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے یہی بات کہی ، اور پھر میں حضرت حذیفۃ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا ، بعد ازاں میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث سنائی ۔[1] لہٰذا تقدیر پر راضی ہونا لازمی امر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ ہر قسم کی بھلائی، عدل اور حکمت سے پُر ہے، اورجو شخص اس پر مطمئن ہوجائے وہ حیرت، تردد اور پریشانی سے محفوظ ہوجاتا ہے ،اور اس کی زندگی سے بے قراری اور اضطراب کا خاتمہ ہوجاتا ہے،اور پھر وہ کسی چیز کے چھن جانے سے غمزدہ نہیں ہوتا ، اور نہ ہی وہ اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ رہتا ہے ، بلکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سعادت مند، خوشگوارزندگی والا اور آسودہ حال ہوتا ہے ،اور جس شخص کو اس بات پر یقینِ کامل ہو کہ اس کی زندگی محدودہے ، اور اس کا رزق متعین اور معدود وگِناچنا ہے تو وہ [1] ابو داؤد : ۴۶۹۹ ، ابن ماجہ : ۷۷ ۔ وصححہ الألبانی