کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 95
’’اور اللہ ہی نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا فرمایا ہے۔‘‘ یعنی کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مشیئتِ عامہ کے بغیر نہیں ہوتا ، ہاں البتہ ان افعال کے کرنے والے حقیقت میں بندے ہی ہیں، لہٰذا اگر کسی نے کسی واجب کام کو چھوڑا یا حرام کا ارتکاب کیا تو وہ یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں قائم کر سکتا کہ یہ تو میری قسمت میں لکھا ہوا تھا ،کیونکہ جب اس نے گناہ کیا تھا تو اس وقت اسے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ گناہ میری تقدیر میں لکھا ہوا ہے ، تقدیر تو اللہ تعالیٰ کا راز ہے جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، اور چونکہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب اپنے اختیار سے کیا اس لییٔ وہ تقدیر کو اپنے گناہ پر حجت نہیں بنا سکتا ، نیز یہ بات یاد رہے کہ مصائب پرتقدیر کو حجت بنانا تو جائز ہے، گناہوں پر حجت بنانا جائز نہیں ہے ، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام کے ما بین ایک مباحثے کے بارے میں ارشاد ہے: (( تَحَاجَّ آدمُ وَمُوْسٰی ، فَقَالَ مُوْسٰی : أَنْتَ آدَمُ الَّذِیْ أَخْرَجَتْکَ خَطِیْئَتُکَ مِنَ الْجَنَّۃِ ، فَقَالَ لَہٗ آدَمُ: أَنْتَ مُوْسٰی الَّذِی اصْطَفَاکَ اللّٰہُ بِرِسَالَاتِہٖ وَبِکَلَامِہٖ ، ثُمَّ تَلُوْمُنِیْ عَلٰی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوْسٰی )) [1] ’’آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا آپس میں مباحثہ ہوا ، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آپ وہی آدم علیہ السلام ہیں جنہیں ان کی غلطی نے جنت سے نکال دیا تھا! آدم علیہ السلام نے کہا : آپ وہی موسیٰ علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کیلئے منتخب فرمایا ، اس کے باوجود بھی آپ مجھے ایک ایسے معاملے پر ملامت کر رہے ہیں جسے میری تخلیق سے قبل ہی میری تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا! چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے‘‘۔ بندوں کے افعال واعمال کے بارے میں تین نظریات پائے جاتے ہیں: [1] بخاری : ۶۶۱۴، ۷۵۱۵، مسلم : ۲۶۵۲