کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 93
درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، لیکن تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے ، پھر وہ اہلِ جنت کا کوئی عمل کرتا ہے ، اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے ۔‘‘ (۳) اس بات پر ایمان لانا کہ ہرچیز اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق ہی واقع ہوتی ہے ، اور اس کی قدرت ہر چیز کوشامل ہے ۔فرمانِ الٰہی ہے: {وَمَا تَشَآئُ وْنَ إِلاَّ ٓأَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ } (سورۃالتکویر:۲۹) ’’اور تم بغیر پروردگارِ عالَم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ((مَا شَآئَ اللّٰہُ وَشِئْتَ)) ’’جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ((أَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا ؟ بَلْ مَا شَآئَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ )) [1] ’’کیا تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا ہے بلکہ تم یوں کہو (( مَا شَآئَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ)) یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ جوچاہتا ہے وہی ہوتا ہے ‘‘ (۴) اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ وَّہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ } (سورۃ الزمر: ۶۲) ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے: ((خَلَقَ اللّٰهُ کُلَّ صَانِعٍ وَّصَنْعَتَہٗ)) [2] ’’ اللہ تعالیٰ نے ہی ہر کاریگر اور اسکی کاریگری کو پیدا فرمایا ہے۔‘‘ [1] مسند أحمد۔ وصححہ الألبانی فی الصحیحۃ : ۱۳۹ [2] رواہ البزار ۔ ورجالہ رجال الصحیح غیر أحمد بن عبد اللّٰہ وہو ثقۃ ۔ قالہ الہیثمی