کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 91
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( کَتَبَ اللّٰهُ مَقَادِیْرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ )) [1] ’’اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تقدیروں کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے تحریر فرمایا دیا تھا۔‘‘ حضرت عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : (( یٰا بُنَیَّ ! إِنَّکَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِیْقَۃِ الْإِیْمَانِ حَتّٰی تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ ، وَمَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ )) ’’ اے میرے پیارے بیٹے ! تم ایمان کی حقیقت کا ذائقہ محسوس نہیں کر سکتے یہاں تک کہ اس بات پر یقین کر لو کہ جو چیز تمہارے مقدر میں لکھی گئی ہے وہ تم سے چوکنے والی نہیں ، اور جو چیز تمہارے مقدر میں نہیں لکھی گئی وہ تمہیں ملنے والی نہیں ۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے کہا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : (( إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ الْقَلَمَ ، فَقَالَ لَہٗ : اکْتُبْ ، قَالَ : رَبِّ ! وَمَا ذَا أَکْتُبُ ؟ قَالَ : اُکْتُبْ مَقَادِیْرَ کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ )) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا ، پھر اس سے کہا : لکھو ، اس نے کہا : اے میرے رب ! میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قیامت تک آنے والی ہر چیز کی تقدیروں کو لکھو ۔‘‘ بعد ازاں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے سے کہا :’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : [1] مسلم :۲۶۵۳