کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 81
وَیَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْہُ فَلَایَرٰی إِلاَّ مَا قَدَّمَ ، وََیَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلَایَرٰی إِلاَّ النَّارَ تِلْقَائَ وَجْہِہٖ ، فَاتَّقُوْا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ۔ وفی روایۃ : وَلَوْ بِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ )) [1] ’’ اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر شخص سے عنقریب ہم کلام ہو گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا ،جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے اپنے عمل ہی نظر آئیں گے، اور اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اسے اپنے عمل ہی نظر آئیں گے ، اور اپنے سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی ، لہٰذا تم جہنم سے بچو اگرچہ کھجورکے آدھے حصے کاصدقہ کرکے ہی ۔‘‘ ( دوسری روایت میں ہے) ’’اگرچہ ایک اچھا کلمہ کہہ کر ہی۔‘ ‘ قیامت کے روز لوگوں کے درمیان قصاص حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَہْلِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَادَ لِلشَّاۃِ الْجَلْحَائِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَائِ )) [2] ’’ تم قیامت کے روز حق والوں کے حقوق ضرور بالضرور ادا کرو گے، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کیلئے بھی بدلہ لیا جائے گا ۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( مَنْ کَانَتْ عِنْدَہٗ مَظْلَمَۃٌ لِأَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہٖ أَوْ شَیْئٍ فلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ أَنْ لاَّ یَکُوْنَ دِیْنَارٌ وَّلَا دِرْہَمٌ ، وَإِنْ کَانَ لَہٗ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِہٖ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہٗ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہٖ فَحُمِلَ عَلَیْہِ)) [3] [1] بخاری : ۶۵۳۹ و ۱۴۱۳۰ [2] مسلم:۲۵۸۲ [3] بخاری : ۲۴۴۹ و ۶۵۳۴