کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 74
انھوں نے کہا : چالیس ماہ کا ؟ انھوں نے کہا : میں انکار کرتا ہوں ۔ انھوں نے کہا : چالیس سال کا ؟ انھوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں ۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل کرے گا جس سے لوگ یوں اگیں گے جیسے کوئی سبزی اگتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ انسان کا پورا جسم بوسیدہ ہو چکا ہو گا سوائے اس کی ایک ہڈی کے ، جسے زمین کبھی نہیں کھائے گی ، اور وہ ہے ریڑھ کی ہڈی ، اور اسی سے مخلوق (کے مختلف اجزاء) کو قیامت کے دن جوڑا جائے گا ۔‘‘ [1] اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے( چالیس ) کی تحدید کرنے سے انکار کردیا کہ اس سے مراد چالیس دن ہیں یا چالیس ماہ ، یا چالیس سال ! اور ہو سکتا ہے کہ انھیں اس کا علم ہی نہ ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں اس کا علم ہو لیکن انھوں نے اسے بیان کرنا مناسب نہ سمجھا ہو کیونکہ ایک تو اُس وقت ابھی اس کی ضرورت ہی نہ تھی اور اس کے متعلق کچھ بتانا قبل از وقت تھا، اور دوسرا اس لییٔ کہ یہ بات ان ضروری مسائل میں سے نہ تھی کہ جن کی تبلیغ کرنا ان پر واجب تھا ۔ واللہ اعلم فرمانِ الٰہی ہے : { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرٰی فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ}(سورۃالزمر:۶۸) ’’ اور صور پھونک دیا جائے گا ، پھر آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہو کر [1] بخاری : ۴۸۱۴و ۴۹۳۵ ،مسلم :۲۹۵۵