کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 57
چوتھا رکن: ایمان بالرسل رسولوں پر ایمان لانا یہ اس پختہ اعتقاد کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغامات واحکامات پہنچانے کے لییٔ کچھ رسولوں )پیغمبروں( کو منتخب فرمایا ،اور جس شخص نے ان کی فرمانبرداری کی وہ ہدایت یافتہ ہوا ، اور جس نے ان کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو کچھ نازل فرمایا، انہوں نے اسے مخلوق تک مکمل وواضح طور پر پہنچا دیا، اس میں نہ تو انہوں نے کچھ تبدیلی کی اور نہ ہی کچھ چھپایا، اور انہوں نے امانت کو ادا کر دیا، انہوں نے امت کی خیر خواہی کی، اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے کا حق ادا کر دیا، اور لوگوں پر حجت قائم کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل علیہم السلام میں سے جن کے نام ہمارے لییٔ ذکر کییٔ ہیں ان پر ، اور جن کے نام ذکر نہیں کییٔ ان پر بھی ایمان لانا ہم پر لازم ہے ۔ 1 حقیقت ِ نبوت: مخلوق تک خالق کی شریعت کو پہنچانے کا جو واسطہ ہے اسے نبوت کہا جاتا ہے،اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے یہ احسان فرماتا ہے، اور اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے اس منصب کیلئے منتخب فرمالیتا ہے، انتخاب کرنے کا یہ اختیار اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔ارشادِ ربانی ہے: { اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلَآئِکَۃِ رُسُلاً وَّمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ} (سورۃ الحج: ۷۵) ’’فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو اللہ چن لیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ خوب سننے والا ، دیکھنے والا ہے‘‘۔ نبوت وہبی )عطائی( ہوتی ہے کسبی نہیں، بایں معنیٰ کہ اسے کثرتِ عبادت سے حاصل نہیں