کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 44
یُصَلُّوْنَ ، وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ)) [1] ’’ تم میں دن اور رات کے فرشتے باری باری آتے ہیں ، اور وہ نماز ِفجر اور نمازِ عصر کے وقت جمع ہوتے ہیں ، پھر وہ فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں جنہوں نے تمہارے پاس رات گذاری ہوتی ہے ، چنانچہ ان کا رب ان سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں زیادہ جانتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اور جب ان کے پاس آئے تو بھی وہ نماز ہی پڑھ رہے تھے۔ ‘‘ ۵) وہ فرشتے جن کے ذمے بادل لانا، بارش برسانا اور پودوں کو اُگانا ہے۔ ۶) وہ فرشتے جن کے ذمے پہاڑوں کے امور ہیں۔ ۷) جنت اور جہنم کے خازن ۔ ۸) وہ فرشتے جو بنی آدم کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : { لَہُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ } (سورۃ الرعد:۱۱) ’’ ہر شخص کے آگے اور پیچھے اللہ کے مقرر کردہ نگران ( فرشتے ) ہیںجو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ ۹) وہ فرشتے جن کے ذمے انسان کے ساتھ رہنا اور اس کیلئے بھلائی کی دعا کرنا ہے۔ ۱۰) وہ فرشتے جو رحم میں نطفہ کے امور اور انسان میں روح پھونکنے، اس کا رزق، عمل، بدبختی اور سعادت مندی لکھنے پر مامور ہیں۔ حضرت حذیفۃ بن أ سِید الغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : [1] بخاری : ۵۵۵ ، ۳۲۲۳ ، مسلم : ۶۳۲