کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 33
4 اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت پر غور وفکر نہ کرنا، کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، جیسا کہ امام مالک ؒ کا مشہور قول ہے : ( اَلإِْسْتِوَائُ مَعْلُوْمٌ ، وَالْکَیْفُ مَجْہُوْلٌ ، وَالإِْیْمَانُ بِہٖ وَاجِبٌ ، وَالسُّؤَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ ) [1] یعنی ’’ استواء( کا معنیٰ ) معلوم ہے ، اس کی کیفیت نا معلوم ہے ، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘ 5 اس صفت پر مرتّب ہونے والے احکام اور آثار پر ایمان لانا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، بزرگی اور بڑھائی جو اس کے شایانِ شان ہے، اور اسی طرح اس صفت سے اللہ تعالیٰ کا مطلقاً اپنی مخلوقات پر بلند ہوناثابت ہوتا ہے اوراس میں ان لوگوں پر ردّ ہے جو اللہ تعالیٰ کو ذات کے اعتبار سے ہر جگہ موجود مانتے ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ذات کے اعتبار سے عرش پر ہی مُستویْ ہے ، ہاں وہ اپنی صفات ( مثلا ً علم ، سننا ، دیکھنا ، نگرانی کرنا اور احاطہ کرنا وغیرہ ) کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے ، اور دنیا میں کوئی کام اس کے علم کے بغیر نہیں ہوتا ، اور وہ کائنات کی تمام حرکات وسکنات کا علم رکھتا ہے ، اور انہیں سنتا اور دیکھتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ إِلاَّ ہُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ إِلاَّ یَعْلَمُہَا وَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ إِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ} (سورۃ الأنعام:۵۹) ’’ اور غیب کی چابیاں تو اسی کے پاس ہیں ، اور انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، سمندر اور خشکی میں جو کچھ ہے وہ اسے جانتا ہے ، اور کوئی پتّاتک نہیں گرتا جسے وہ جانتا نہ ہو ، نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو ، اور تر اور خشک جو کچھ بھی ہے سب کتاب ِمبین میں موجود ہے۔ ‘‘ [1] بحوالہ الاعتصام شاطبیؒ