کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 29
سکتے ، ہاں اللہ تعالیٰ نے تمھارا جونقصان لکھ رکھا ہے ، وہ توہو کررہے گا ۔ ‘‘ ایمان باللہ کا تیسرا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس بات پر پختہ اعتقاد ہوکہ اللہ تعالیٰ تمام اسمائے حسنیٰ ( اچھے ناموں ) سے موسوم ، اور صفاتِ کاملہ سے متّصف ہے ، اور وہ اپنے ان اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ کمال میں یکتا ہے،جن کا ذکر اس نے اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں کیا ہے ، اور ان میں اس کا کوئی مثیل ہے اورنہ کوئی شریک ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: { وَلِلّٰہِ الْأَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْ أَسْمَآئِہٖ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } (سورۃ الأعراف:۱۸۰) ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں ، لہٰذا تم ان ناموں سے ہی اللہ کو پکارا کرو، اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کییٔ کی ضرور سزا ملے گی۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کجروی کرنے یا ٹیڑھی راہ اختیار کرنے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ اس کے تمام اسمائے حسنیٰ کا یا ان میں سے بعض کا انکار کیا جائے ، اور دوسرا یہ ہے کہ اس کے اسمائے حسنیٰ ،اس کی جن صفاتِ عالیہ پر دلالت کرتے ہیں انہیں تسلیم نہ کیا جائے ، اور تیسرا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ جن عظیم معانی پر دلالت کرتے ہیں ان کے خلاف عمل کیا جائے ، مثلاً اس کا ایک نام ( الرزّاق ) ہے ، اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رزق دینے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے ، اور اس کے خلاف عمل یہ ہے کہ اسے چھوڑ کر غیر اللہ کے سامنے جھولی پھیلائی جائے اور غیر اللہ کورزق دینے والا تصوّرکیا جائے ، اسی طرح اس کا ایک نام