کتاب: ارکان ایمان ایک تعارف - صفحہ 102
باتوں کی تصدیق کی ،تو ہم اسے آسان راہ پر چلنے کی توفیق دیں گے ، اورجس نے بخل کیا ، اورلا پرواہی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا ، تو ہم اسے تنگی کی راہ پر چلنے کی سہولت دیں گے۔ ‘‘ مسئلہ تقدیر اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں ایک راز ہے تقدیر اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں ایک راز ہے ، جسے سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا، جیسے اللہ تعالیٰ کا کسی کو گمراہ کرنا، کسی کو ہدایت دینا، کسی کو مارنا، کسی کو زندہ کرنا، کسی کو محروم کرنا اور کسی کو نواز نا وغیرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ان تمام امور اور انکی حکمتوں سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((إِذََا ذُکِرَ الْقَدْرُ فَأَمْسِکُوْا)) [1] ’’جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو (بحث کرنے سے ) رُک جائو۔‘‘ دنیوی اسباب کا استعمال دنیوی اسباب کو اختیار کرنا تقدیر اور توکّل کے منافی نہیں بلکہ یہ اسی کا ایک جزء ہے۔اگر کسی انسان پر کوئی مصیبت یا آزمائش آجائے تو اسے کہنا چاہیے: ((قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَا شَآئَ فَعَلَ )) ’’اللہ تعالیٰ ہی نے تقدیر بنائی ہے اور وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔‘‘ اور اس کے واقع ہونے سے قبل انسان پر یہ لازم ہے کہ وہ مشروع اسباب کو اختیار کرے، کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی ان مشروع دنیوی اسباب ووسائل کو اختیار کیا جوکہ ان کو [1] رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی القضاء والقدر ، وحسنہ العراقی فی تخریج الإحیاء : ۱؍۵۰، والحافظ ابن حجر فی الفتح : ۱۱؍۴۷۶ ، والألبانی فی الصحیحۃ : ۳۴