کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 289
مزید فرمایا: ((وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ)) ’’اس (مکہ) کی گرئی ہوئی چیز (اٹھانا) کسی کے لیے حلال نہیں،مگر اس کے لیے (اجازت ہے) جو اعلان کرے۔‘‘[1] مکہ سے گری ہوئی چیز اٹھانے والے کے ذمے ہے کہ وہ اس کی علامتیں اچھی طرح دیکھ لے اور اس کی حفاظت اسی طرح کرے جیسے اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ چیز اس کے پاس امانت کے طور پر ہوگی۔ لوگوں کے درمیان،بازاروں اور دیگر پبلک مقامات پر اس کا اعلان کرتا رہے۔ اگر اس کا مالک آکر اس کی نشانی بتا دے تو وہ چیز اسے واپس کر دے۔ مسجد حرام میں گری ہوئی چیز کا اعلان کرنا جائز ہے،اس کے سوا کسی مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرنا درست نہیں ہے۔ [2] زیادہ بہتر یہ ہے کہ گری ہوئی چیز امانت دار حکومت کے حوالے کر دی جائے،جس کے پاس اس کی حفاظت کا انتظام ہو اور حفاظت کی جگہ لوگوں میں مشہور ہو،کیونکہ اس طرح وہ چیز زیادہ محفوظ ہوجائے گی اور لوگوں کے لیے ایسی گم شدہ چیز کو تلاش کرنا آسان ہوگا۔ واضح رہے کہ باب الملک عبدالعزیز (ملک عبدالعزیز کے نام سے مشہور حرم کے دروازے) کی ایک جانب پولیس اسٹیشن ہے،وہاں گری ہوئی چیزوں کی حفاظت کے لیے جگہ مقرر کی گئی ہے۔ عوام الناس گری ہوئی چیزوں کو وہاں پہنچا دیتے ہیں،تاکہ اگر مالک مل جائے تو ان کو واپس کردی جائیں ورنہ وہ فقراء میں تقسیم کر دی جائیں۔
[1] صحیح البخاری،اللقطۃ،باب کیف تعرف لقطۃ أھل مکۃ؟ قبل حدیث : 2433 [2] فتح الباری : 88/5