کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 287
’’اس (ملنے والی) چیز کی تھیلی اور باندھنے والی رسی کی پہچان رکھ،اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔ اگر اس کا مالک نہ ملے تو پھر تو اسے استعمال میں لاسکتا ہے۔ لیکن وہ چیز تیرے پاس امانت کے طور پر ہوگی۔ زندگی میں کسی بھی وقت اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اسے واپس کرنا ہوگی۔‘‘ آپ سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تجھے اس سے کیا سروکار،اسے چھوڑ دے،اس کے پاؤں مضبوط ہیں اور پانی کے لیے اس کے پاس مشکیزہ ہے،تالاب سے پانی حاصل کرے گا اور درختوں سے پتے وغیرہ کھائے گا،یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پکڑ لے گا۔‘‘ گمشدہ بکری کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے پکڑ لے،وہ تیری یا تیرے بھائی کی یا بھیڑیے کی ہے۔‘‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ))
’’جس کسی کو کوئی گم شدہ چیز گری پڑی ملے تو اسے چاہیے کہ ایک یا دو منصف اور عادل آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لے،اسے چھپانے اور غائب کرنے کی کوشش نہ کرے،بلکہ اگر اس کا مالک مل جائے تو اسے واپس کر دے۔ ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔‘‘[2]
[1] صحیح البخاری اللقطۃ،باب ضالۃ الغنم،حدیث : 2429,2428 و صحیح مسلم،اللقطۃ،باب معرفۃ العفاص والوکاء … ،حدیث : 1722 واللفظ لہ
[2] سنن أبی داود،اللقطۃ ،باب التعریف باللقطۃ ،حدیث : 1709