کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 279
((أَوَّهْ أَوَّهْ،عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا،لاَ تَفْعَلْ،وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمْرَ بِبَيْعٍ آخَرَ،ثُمَّ اشْتَرِهِ))
’’اوہو! یہ تو عین سود ہے۔ ایسا نہ کر،جب تم عمدہ کھجور خریدنا چاہو تو نکمی اور ردی کھجور فروخت کر دو اور پھر (اس قیمت سے) عمدہ کھجور خرید لو۔‘‘[1]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ))
’’سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو۔‘‘[2]
(2) دونوں اطراف سے ایک طرف والی چیز بھی ادھار نہیں ہونی چاہیے،بلکہ دونوں طرف سے تبادلہ نقد ہونا چاہیے،کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ نقد کے بدلے میں نقد ہونا چاہیے۔‘‘
ایک حدیث میں ہے:
((ا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ))
’’سونے کو سونے کے عوض مت فروخت کرو مگر برابر برابر۔ اور دونوں طرف سے کسی کمی؟ چاندی کے عوض چاندی کو فروخت نہ کرو مگر برابر برابر یا زیادتی کو روانی نہ رکھو۔ اور غائب چیز کو حاضر کے بدلے فروخت نہ کرو۔‘‘[3]
[1] صحیح البخاری،الوکالۃ،باب إذا باع الوکیل شیئا فاسدا … ،حدیث : 2312 و صحیح مسلم،المساقاۃ،باب بیع الطعام مثلا بمثل ،حدیث : 1594
[2] صحیح مسلم،البیوع،باب الصرف و بیع الذھب بالورق نقدا،حدیث : 1588
[3] صحیح البخاری،البیوع،باب بیع الفضۃ بالفضۃ،حدیث :2177 و صحیح مسلم،المساقاۃ،باب الربا،حدیث : 1584