کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 277
((لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ،وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ....فإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ))
’’ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں نہ بیچو… میں تمھارے سود میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہوں۔‘‘[1]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ چیزوں کی صراحت کرتے ہوئے فرمایا:
((الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ،وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ،وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ،وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ،وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ،وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ،مِثْلًا بِمِثْلٍ،سَوَاءً بِسَوَاءٍ،يَدًا بِيَدٍ،فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ))
’’سونا سونے کے بدلے،چاندی چاندی کے بدلے،گندم گندم کے بدلے،جَو جَو کے بدلے،کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے میں جب کہ یہ اشیاء ایک جیسی ہوں،برابر برابر ہوں اور دست بدست ہوں (کمی یا زیادتی اور ادھار ٹھیک نہیں) اور اگر اصناف مختلف ہوں تو پھر جیسے چاہو فروخت کرو،جب کہ وہ دست بدست ہوں۔‘‘[2]
ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:
((فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ))
’’جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سودی کام کیا۔ سود لینے اور دینے والا برابر ہیں۔‘‘[3]
[1] صحیح مسلم،المساقاۃ ،باب الربا،حدیث : 1585 و مجمع الزوائد : 113/4 و مسند أحمد: 109/2 و اللفظ لہ
[2] صحیح مسلم،البیوع،باب الصرف و بیع الذھب بالورق نقدا،حدیث : 1587
[3] صحیح مسلم،البیوع،باب الصرف و بیع الذھب بالورق نقدا،حدیث : 1584