کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 266
((الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ)) ’’دنیا ساری کی ساری فائدے کا ساز و سامان ہے اور دنیا کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ((أَمَا وَاللّٰهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ للّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي)) ’’اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور زیادہ پرہیز گار ہوں،لیکن میں (نفلی) روزہ رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں،رات کو قیام کرتا ہوں اور سوبھی جاتا ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ آگاہ رہو! جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا وہ مجھ سے نہیں (میرے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘)[2] شادی کی حکمت شادی انفرادی و اجتماعی لحاظ سے بنی نوع انسان کے لیے مفید ہے۔ یہ طبعی اور فطری خواہش کو پورا کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ اس کے نتیجہ میں انسان مطمئن اور پرسکون ہوجاتا ہے اور حرام کے قریب نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
[1] صحیح مسلم،النکاح،باب خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ ،حدیث : 1469 [2] صحیح البخاری،النکاح،باب الترغیب فی النکاح ،حدیث : 5063