کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 244
کرنا۔(3) سعی کرنا۔(4) بال منڈوانا۔(5) احرام کھول دینا۔ (1)۔احرام باندھنا:جب میقات سے احرام باندھنے کا ارادہ ہو تو پہلے غسل کریں،[1] کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح ثابت ہے۔[2] پھر احرام کا لباس پہنیں۔[3] عمرہ کی نیت کرتے ہوئے کہیں: ((لَبَّيْكَ اللّٰهُ مَّ بِعُمْرَةٍ)) ’’اے اللہ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوا ہوں۔‘‘ اور پھر بلند آواز سے تلبیہ کہتے رہیں جس کے الفاظ یہ ہیں: ((لَبَّيْكَ اللّٰهُ مَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ))
[1] مختلف جہتوں کے اعتبار سے احرام باندھنے کے مقامات بھی مختلف ہیں: 1. یَلَملم : یہ پاکستان،بھارت اور ان سے ملے ہوئے علاقوں سے آنے والے عازمین حج و عمرہ کے لیے میقات ہے،اہل یمن کا بھی یہی میقات ہے۔ 2. ذوالحلیفۃ: یہ مدینہ اور اس سے ملے ہوئے علاقوں کے لوگوں کے لیے میقات ہے،جس کا نیا نام بئر علی یا آبار علی ہے۔ 3.جحفہ: یہ شام اور مصر وغیرہ کے لوگوں کے لیے میقات ہے۔ 4.ذات العِرق: یہ میقات عراق والوں کے لیے ہے۔ 5. قرن المنازل: نجد والوں کے لیے ’’قرن المنازل‘‘ یا ’’سیل کبیر‘‘ میقات ہے۔ [2] جامع الترمذی،الحج،باب ماجاء فی الاغتسال عند الإحرام،حدیث : 830 [3] مردوں کے لیے دو صاف ستھری اَن سلی چادریں (اگر سفید ہوں تو بہتر ہے) احرام کا لباس ہیں،ایک بطور تہبند باندھے اور دوسری اوپر اوڑھے ،لیکن سر اور چہرہ ننگا رکھے۔ جوتا کوئی سا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ،البتہ ٹخنے ضرور ننگے ہوں۔ عورتوں کے لیے کوئی مخصوص احرام نہیں،وہ جو بھی کپڑے پہنے ہوئے ہوں انھی کو بطور احرام اختیار کر سکتی ہیں،البتہ دستانے پہنیں نہ نقاب اوڑھیں۔