کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 239
حج کی تین اقسام ہیں،جن میں سے حج تمتع سب سے بہتر ہے۔[1]
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((يا آلَ محمَّدٍ مَن حجَّ منكم فليُهِلَّ بعمرةٍ في حجٍّ))
’’اے آل محمد! تم میں سے جب کوئی حج کرے،تو اسے چاہیے کہ پہلے عمرہ کی نیت سے احرام باندھے،پھر حج کرے۔‘‘[2]
حج کے اعمال اور اس کا طریقۂ کار
حج ادا کرنے کے لیے درج ذیل اعمال کو بجا لانا ضروری ہے :
(1) احرام باندھنا (2) منٰی میں راتیں گزارنا
(3) عرفات میں ٹھہرنا (4) مزدلفہ میں رات گزارنا
(5) کنکریاں مارنا (6) قربانی کرنا
(7) بال منڈوانا (8) طواف کرنا
(9) سعی کرنا (10) احرام کھولنا۔
ان اعمال کی تفصیل یہ ہے:
( حج تمتع کرنے والے آٹھ ذوالحجہ کو مکہ میں اپنی قیام گاہ ہی سے احرام باندھ کر حج کی نیت کرتے ہوئے یہ کہیں: اَللّٰھُمَّ لَـبَّـیْکَ حَجًّا ’’اے اللہ! میں حج کے لیے حاضر ہوں۔‘‘
[1] چنانچہ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم حج تمتع کریں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ حج کے مہینوں (شوال،ذوالقعدہ اور ذوالحجہ) میں میقات سے احرام باندھتے ہوئے صرف عمرہ کی نیت کریں،بیت اللہ پہنچ کر طواف اور سعی کرکے بال کٹوائیں اور احرام کھول دیں پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کی نیت سے دوبارہ احرام باندھیں۔
[2] مسند أحمد : 317-297/6