کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 232
پیش ہوں۔‘‘[1]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
((ذاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فيه،وَ أُنزِلَ عليَّ فيهِ))
’’یہ وہ دن ہے جس روز میری ولادت ہوئی اور مجھ پر وحی نازل ہوئی۔‘‘[2]
( ایام بیض کے روزے رکھنا : سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
((أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ،وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ،وَخَمْسَ عَشْرَةَ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم ہر ماہ ایام بیض،یعنی تیرہ،چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھیں۔‘‘[3]
[1] سنن النسائی،الصیام،باب صوم النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم بأبی ھو وأمی … ،حدیث: 2360
[2] صحیح مسلم،الصیام،باب استحباب صیام ثلاثۃ أیام من کل شھر…،حدیث: 1162
[3] سنن النسائی،الصیام،باب ذکر الاختلاف علی موسیٰ بن طلحۃ…، حدیث: 2425,2424